Yadasht Barhany ke 9 Aasan Tariqy

یاداشت بڑھانے کے چند آسان طریقے
انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے اس کی یاداشت اسی حساب سے کمزور ہوتی جاتی ہے ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی یاداشت کافی عرصے تک برقرار رہے ، بعض لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر اس پر کئی کئی دن سوچتے رہتے ہیں جس سے انسان کے ذہن پر کافی اثر رونما ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ یاداشت کمزور ہونا شروع جاتی ہے اگر ہم مندرجہ ذیل طریقوں پر عمل کریں تو ہم اپنی یاداشت کو کافی عرصے تک برقرار رکھ سکتے ہیں ۔

دماغ مضبوط کرنے والی غذائیں :
ان غذاؤں میں وہ سر فہرست ہیں جن میں اومیگا تھری فیٹس ، گلوکوز (ثابت اناج) اور ضد تکسیدی مادے ملتے ہیں ۔ مزید برآں دن میں پانچ چھ بار کھانا کھائیے ۔ وجہ یہ ہے کہ وقفے وقفے سے تھوڑا کھانا کھانے سے خون میں گلوکوز کی سطح برقرار رہتی ہے اور دماغ بنیادی طور پر گلوکوز ہی سے توانائی حاصل کرت ہے ۔

دماغ کو مصرف رکھیے :
ایسی سرگرمیاں اپنائیں جن سے دماغ کی ورزش ہو ۔
مثلاً معمے حل کیجیے ، کراس ورڈ پزل کھیلیں ۔
ان سرگرمیوں سے دماغ کی ورزش ہوتی ہے اور وہ چاق و چوبند رہتا ہے ۔

جسم کو فٹ رکھیے :
روزانہ صبح سویرے یا شام کو تیز چہل قدمی کیجیے اور بدن پھیلانے والی ورزش کیجیے ۔
ان ورزشوں کے ذریعے نہ صرف دماغ کا سفید مادہ بڑھتا ہے بلکہ مزید نیورون (خلویاتی )کنکشن بھی جنم لیتے ہیں ۔

ورزش سے ذہنی و جسمانی دباؤ کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے ۔

فولاد کی سطح چیک کریں :
ہمارے دماغ کے خصوصی خلی نیوروٹرانسمیٹر ہماری یاداشت عمدہ حالت میں رکھتے ہیں اور یہ خود فولا د کے ذریعے توانا رہتے ہیں ۔لہذا اپنے بدن میں اس اہم معدن کی کمی نہ ہونے دیجیے ۔ جن مردوزن میں فولاد کی کمی ہو، وہ عموماً بھلکڑ بن جاتے ہیں ۔

ایک وقت میں ایک کام :
کئی مردوزن ٹی وی پر خبریں سنتے ہوئے کھانا کھاتے اور کبھی کبھی تو اخبار بھی پڑھتے لگتے ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ یوں انہیں سنی گئی خبریں یاد رہتی ہیں اور نہ ہی پڑھا گیا مواد۔ یہ کھانے کا صحت بخش طریقہ بھی نہیں ۔
دراصل جب ہم ایک وقت میں دویا زیادہ کام کریں تو دماغ پروسیسنگ کا عمل ایسے علاقوں میں منتقل کردیتا ہے جو تفصیل سے یاد یں محفوظ نہیں کرتے ۔ لیکن ایک وقت میں ایک کام کیاجائے تو دماغ اور اس کی جزئیات تک وہ کام محفوظ رہتا ہے ۔

کولیسٹرول پر قابو پائیے :
انسانی جسم میں کولیسٹرول کی زیادتی بڑا خطرناک عمل ہے ۔ اس کے ذریعے نہ صرف دل کی شریانوں میں چربی جمتی ہے ۔ بلکہ دماغ میں بھی خون کی نسوں میں لوتھڑے جنم لیتے ہیں ۔ ان کی وجہ سے دماغ کو قیمتی غذائیت نہیں ملتی اور بتدریج یاداشت جاتی رہتی ہے ۔ واضح رہے دماغ میں تھوڑی سی چربی بھی نسیں بند کرڈالتی ہے لہذا اپنا کولیسٹرول اعتدال پر رکھیے ۔

ادویہ پر نظر رکھیں :
کئی ادویہ انسانی یاداشت پر منفی اثرات ڈالتی ہیں اور ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ انسان جتنا بوڑھا ہو، دوا اتنی ہی دیر تک اس کے بدن میں رہتی ہے ۔ نظام یاداشت پر اثر انداز ہونے والی ادویہ میں اینٹی ڈیپریسنٹ ، بیٹا بلاکرز، کیموتھراپی ، پارکنسن مرض کی دوائیں ، نیند آور، درد کش ، اینٹی ہسٹامائنز اور سٹاٹینس شامل ہیں ۔

روزانہ ایک سیب کھائیے :
سیب میں شامل ضد تکسیدی مادوں کی بلند مقدار زیادہ ایسیٹلکولین کیمیائی ماد ہ پیدا کرتی ہے ۔ دماغ میں ملنے والا یہ نیوروٹرانسمیٹر عمدہ یاداشت کے لیے لازمی ہے ۔ مزیدبرآں درج بالا ضد تکسدی مادے دماغ کو مضر صحت آزاد اصلیوں سے محفوظ رکھتے ہیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*