7 سبزیاں 7 بیماریوں کے علاج میں معاون

سبزیاں اور جڑی بوٹیاں اپنے طبی خواص کی بدولت صدیوں سے استعمال ہورہی ہیں ۔ ذیل میں چند معروف سبزیوں کے طبی استعمال کا ذکر کیا جارہا ہے ۔

میتھی :
حضوراکرم ﷺ نے فرمایا کہ میتھی سے شفاء حاصل کرو یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر لوگوں کو میتھی کے فوائد کا علم ہوتا تو وہ اسے سونے کے بھاؤ خریدلیتے ۔ میڈیکل سائنس کی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ میتھی کے بیج کے استعمال سے نہ صرف ذیابیطس پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ خون میں کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے جس کی وجہ سے قلب پر حملوں کے اندیشے میں کمی واقع ہوتی ہے ۔
ہمارے ملک میں میتھی کے بیجوں کو مصالحے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کا مزہ کڑوا ہوتا ہے لیکن دیگر مصالحہ شامل کرکے بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔

یہ بیج دال ، ترکاری اور چٹنی میں سفوف کی شکل میں یا پھر پانی یا چھاچھ میں شامل کرکے کھانے سے پہلے استعمال کیے جا سکتے ہیں ۔
روزانہ استعمال کی مقدار کا انحصار ذیابیطس کی شدت پر ہوتا ہے اور یہ مقدار 25گرام(دوبڑے چمچوں)سے سوگرام تک ہوسکتی ہے ۔ اس کے استعمال سے ذیابیطس کی دوا کے استعمال میں کمی کی جاسکتی ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک خون میں شکر کی سطح زیادہ ہو میتھی استعمال کی جا سکتی ہے ۔ اس کا ایک ہی نقصان ہے کہ بعض مریضوں کا پیٹ پھول جاتا ہے لیکن بعد میں خودبخود دور ہو جاتا ہے ۔

کریلا:
کریلا موسم گرما کی عام سبزی ہے ۔ اس کا مزاج گرم اور خشک ہے ۔ کریلے کی کڑواہٹ بعض افراد کو ناگوار گزرتی ہے تاہم اس میں طبی نکتہ نگاہ سے متعدد فوائد پوشیدہ ہیں ۔ کریلا خون کو صاف کرتا ہے اور خون میں موجود فاسد مادوں کو ختم کرتا ہے ۔ جسم کو قوت بخشتا ہے ۔ بھوک لگاتا ہے ، تلی ، جگر کی بیماریوں اور بخار میں مبتلاء افراد کے لیے بہت فائدہ مند ہے ۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال بہت فائدہ مند ہے ۔

پودینہ :
یہ گرمیوں کی مفید اور خوشبودار سبزی ہے ۔ اس کا مزاج گرم اور خشک ہے ۔ یہ زودہضم ، معدے اور آنتوں کو تقویت دینے والی سبزی ہے ۔ معدہ پودینہ کو دو سے تین گھنٹوں کے دوران ہضم کرلیتا ہے ۔ اس کا استعمال بدہضمی ،ڈکار کی کثرت، پیٹ بڑھنے ، منہ کی بدبو، متلی اور گیس کی شکایت کو دور کرتا ہے ۔ چند پتے پودینے ڈال کر اُبلاہوا پانی گرمیوں میں پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے ۔ یہ معدہ جگر اور گردے وغیرہ کو قوت بخشتا ہے ۔ خون صاف کرتا ہے اور جسم کے اندر زہریلے اور فاسد مادوں کو ختم کرتا ہے ۔ غذائی نالی کو مضبوط بنانے کے لئے اس میں تھوڑی مقدار نشاستہ دار گلوکوز بنانے والے اجزاء بھی شامل کردیں تو یہ جسم کو چاق و چوبند رکھنے میں بھی مدددیتاہے ۔

بھنڈی /توری :
بھنڈی اور توری کو موسم گرما کی ہردلعزیز سبزیوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ توری کا بھرتہ بھجیا بھی بنائی جاتی ہے ۔ بھنڈی پیشاب کی جلن کو دور کرتی ہے ۔ اس کا مزاج سرد خشک ہے ۔ بھنڈی گرم مزاج لوگوں کو جلد ہضم ہوجاتی ہے ۔ بھنڈی اور توری وٹامن اے بی، سی اور ڈی سے بھرپور سبزیاں ہیں ۔

ککڑی :
ککڑی پیشاب کی جلن کو دور کرتی ہے ۔ کھانے میں بطور سلاد کا استعمال بہترین ہے ۔ اس کا مزاج سردتر ہے اور یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے ۔ جن افراد کو بادی کا عارضہ لاحق ہے ۔ اگر وہ ککڑی کو کالی مرچ کے ساتھ استعمال کریں تو اس کے بادی اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔یرقان میں ککڑی کا استعمال فائدہ مند ہے ۔ اسے نمک لگا کر کھانا چاہیے ۔

اروی :
اروی اپنے طبی خواص کے اعتبار سے گرم ہے ۔ یہ سرد اور خشک مزاج رکھنے والوں کو جلد ہضم ہوجاتی ہے ۔ بھوک کو تیز کرتی ، خشک کھانسی کو رفع کرتی ہے ، یہ قدرے ثقیل ہے ۔ اس لئے قبض بھی کرتی ہے اور عموماً دیر سے ہضم ہوتی ہے ۔ اروی گردوں کو طاقت دینے والی لذیذ سبزی ہے ۔ اس میں وٹامن اے اور بی کے علاوہ نشاستہ ، شکر اور روغنی اجزاء بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں ۔ ایک پاؤاروی میں دو چپاتیوں کے برابر غذائیت ہوتی ہے ۔ اس کے کھانے سے معدے کی جلن اور خراش رفع ہوجاتی ہے ۔ اس کا سالن خشک کھانسی، گلے کی خراش اور سینے کی جلن میں بھی مفید ہے ۔ ا س کے کھانے سے بواسیر کے مرض میں خون کا اخراج کم ہوتا ہے ۔

ٹینڈے :
ٹینڈے کا طبی مزاج خشک اور سردتر ہے ۔ ٹینڈے گرمیوں کے موسم کی عام سبزی ہے اور پورے موسم گرما میں باآسانی دستیاب رہتی ہے ۔ اس کا مزاج چونکہ سرد زیادہ ہے اس لیے نزلہ زکام اور سینے پر بلغم کی شکایت رکھنے والے افراد کے لیے نقصان دہ ہے لیکن خشک کھانسی اور گرمی کے بخار وغیرہ میں اس کا استعمال مفید ہے ۔ گرمیوں میں ٹینڈے کا سوپ کالی مرچ اور نمک ڈال کر پینے سے دماغ کو تقویت ملتی ہے ۔ یہ زود ہضم ہے ، گرم مصالحے کے استعمال سے یہ سبزی ہر قسم کے مزاج رکھنے والے افراد کو موافق آجاتی ہے ۔ ٹیندے چھوٹے چھوٹے اور گول ہوں تو نہایت آرام سے پک جاتے ہیں کیونکہ پکے اور بڑے ٹینڈوں کے بیج سخت ہوجاتے ہیں لہذااِن کا استعمال معدے کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*