چائے ہو یا کافی ! بس چینی کی مقدار اس سے زیادہ نہ ہو

برطانیہ میں چینی کے استعمال پر مہم چلانے والے ایک گروہ نے خبردار کیا ہے کہ کافی کی دکانوں پر فروخت کیے جانے والے مختلف مشروبات میں چینی کی حیران کن حد تک زیادہ مقدار پائی جاتی ہے ۔
(ایکشن آن شوگر)نامی تنظیم نے 131مشروبات کا جائزہ لیا اور پایا کہ ان میں سے ایک تہائی مشروبات میں اتنی ہی چینی ہوتی ہے جتنی ایک پیپسی یا کوکا کولا کے کین میں ہوتی ہے ۔ ان میں اندازاً9چائے کے چمچ کے برابر چینی ہوتی ہے ۔

کافی سے جسمانی نظامِ اوقات تقریباً 40منٹ سست ہوجاتاہے ، چینی کے استعمال میں پچاس فیصد کمی کریں ۔
عالمی ادارہ صحت تنظیم کے مطابق بعض بدترین کیسز میں تو ایک مشروب میں بیس سے زائد چمچ چینی بھی پائی گئی ہے ۔ برطانیہ میں مقبول کافی کی دکانوں سٹاربکس ، کوسٹا اور کیفے نیرو کا کہنا ہے کہ و ہ اپنے مشروبات میں چینی کی مقدار کو کم کرنے کے لیے پر عزم ہیں ۔
جن مشروبات کاجائزہ لیا گیا تھا ان میں کافی شاپس اور فاسٹ فوڈز پر ملنے والی فلیورڈ کا فیز موکاز اور لاتیز، گرم مشروبات اور ہاٹ چاکلیٹ شامل ہیں ۔
اس فلاحی تنظیم کا کہنا ہے کہ 98فیصد مشروبات پر سرخ تنبیہی لیبل ہونا چاہیے کہ اس میں چینی کی انتہائی مقدار موجود ہے ۔
برطانیہ کے طبی ادارے این ایچ ایس کے مطابق 11سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لیے چینی کی یومیہ خوراک 30گرام یا سات چائے کے چمچ ہے ۔
سٹاربکس کی ونٹی گریپ وِد چائے ، اورنج اینڈ سینیمن ہاٹ ملڈ فروٹ ایسے مشروبات ہیں جن میں سے زیادہ 25چمچ پائی گئی ۔
کوسٹا کے چائے لاتے میں 20چائے کے چمچ چینی پائی گئی ۔ سٹاربکسکے وائٹ چاکلیٹ موکا وِد وپڈ کریم میں 18چمچ چینی پائی گئی ۔
کے ایف سی کے موکا اور سٹاربکس کے ہاٹ چاکلیٹ میں 15چائے کے چمچ چینی پائی گئی جبکہ کیفے نیرو کے کیریملیٹ میں 13چائے کے چمچ چینی تھی ۔
تنظیم کے محققین نے کافی شاپس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مشروبات میں چینی کی مقدار کم کریں اور نہ صرف ان پر لگے لیبل کو بہتر کریں بلکہ ایکسٹرا لارج سرونگ بھی ختم کردیں ۔
ان کے مطابق ایسے گرم مشروبات محض تقریبات میں استعمال کیے جانے چاہیے نہ کہ روزمرہ کے موقعوں پر۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*