Maday Ki Tezabiyat Se Chutkara Kese Mumkin

معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا کیسے ممکن؟

تیزابیت یا ایسیڈیٹی نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو بظاہر تو ایک معمولی طبی مسئلہ لگتا ہے، مگر جس شخص کو اس کا سامنا ہوتا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اس مسئلہ کے پیش نظربے حد پریشان نظرآتی ہے۔ تیزابیت کی عام وجوہات اس کی عام وجوہات میں تناؤ، بہت زیادہ مسالے اور گوشت وغیرہ کا استعمال، تمباکو نوشی، بے وقت کھانے کی عادت، معدے کے مختلف عوارض اور مخصوص ادویات وغیرہ کا استعمال شامل ہے۔ تیزابیت میں مفید غذائیں صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے بہتر غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔ایسی غذائیں جن میں ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے انھیں کھانے کے بعد ایسیڈیٹی کی شکایت ہونے کااندیشہ رہتاہے۔عموماً وہ افراد جن کی غذائی نالی کمزور یعنی عضلاتی نالی جوحلق سے پیٹ تک جاتی ہے، اس میں مقعد کوبند کرنے والاپٹھاہوتاہے جس کے سکڑنے سے غذائی نالی کاخارجی راستہ بند ہوجاتاہے۔ اس سے ایسیڈیٹی کی شکایت ہوتی ہے اور گیسٹروکامرض لاحق ہونے کاخطرہ رہتاہے۔ اگرغذاکاصحیح انتخاب کیاجائے تو تیزابیت سے بچاجاسکتاہے۔اس کے علاوہ کچھ غذائیں ایسی ہیں جن کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت کوکم کیاجاسکتاہے۔ گیسٹرک ایسڈ سے بچنے کے لئے ان غذاؤں کاروزانہ استعمال مفید رہتاہے۔ دلیہ جی ہاں! یہ بچوں والی خوراک ہے لیکن بدہضمی میں انتہائی مفید ہے۔ اس کا شمار نرم اور زود ہضم غذاؤں میں ہوتا ہے، اسی وجہ سے ڈاکٹرز تیزابیت میں دلیہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس میں موجود فائبر اپھارہ اور واٹر ریٹنشن کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتاہے۔ یہ پیٹ میں موجود اضافی ایسڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔ کچھ اور فائبر سے لبریز غذائیں جیسے گندم اورچاول کی مصنوعات بھی فائدہ مند رہتی ہیں۔ ادرک تیزابیت میں ادرک کااستعمال بہترین ہے۔ ادرک میں اینٹی آکسیڈنٹ اوراینٹی انفلیمنٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ تیزابیت کے ساتھ یہ سینے کی جلن، بدہضمی اورپیٹ کے دیگرامراض میں بھی مفید ہے۔اگرآپ کوتیزابیت کے ساتھ ساتھ سینے میں جلن کی شکایت ہوتوادرک کاقہوہ بناکراسے کمرے کے درجہ حرارت پرآنے پر پی لیں۔ تازہ ادرک کا چھوٹا ٹکڑا اسمودھی، سیریل اور دیگر غذاؤں کے ساتھ لیاجاسکتا ہے۔ ہرے پتوں کی سبزیاں ہرے پتوں کی سبزیاں جیسے پالک ،پودینا،دھنیا،میتھی،کیلے،بندگوبھی وغیرہ کو اگراپنی روزمرہ غذاکاحصہ بنالیاجائے تو تیزابیت کی شکایت سے چھٹکارا پایا جاسکتاہے۔ تیزابیت کا مسئلہ ہوتا ہی غذا کے غلط استعمال کے سبب ہے ۔ اگرغذا کا متوازن استعمال کیا جائے تو اس مسئلے سے بچاجاسکتاہے۔ دہی جب بھی سینے میں جلن اور ایسیڈیٹی کی شکایت ہو تو ایک پیالہ ٹھنڈا دہی استعمال کریں۔ دہی کھانے کے بعد آپ خود حیران رہ جائیں گے کہ کتنی جلدی آپ کی طبیعت میں بہتری آتی ہے۔ دہی میں کیلا یا خربوزہ شامل کرکے آپ اس کی افادیت میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔ دہی کی غذائیت اس مسئلہ کوختم کرکے آپ کو توانائی بھی فراہم کرتی ہے۔ کیلا کیلے میں الکلائن موجود ہوتاہے اسی لئے یہ ایسیڈیٹی میں کارآمد رہتاہے۔کسی بھی ایسے مسئلے کی صورت میں آپ ایک سے دوکیلے کھاسکتے ہیں۔ کیلے ذائقہ میں مزیدارہوتے ہیں اسی لئے انہیں کھانامشکل نہیں ہوتا۔ اس کے استعمال سے آپ کم وقت میں طبیعت میں کافی بہتری محسوس کریں گے۔ خربوزہ خربوزہ ایک الکلائن پھل ہے۔ ایسیڈیٹی کی شکایت میں آپ اسے ٹھنڈاکرکے یااسمودھی کے طورپربھی لے سکتے ہیں۔یہ پیٹ کے لئے نہایت مفید پھل ہے۔ اس کے استعمال سے منٹوں میں آرام آتاہے۔ یہ گرمی میں ہونے والی پانی کی کمی کودورکرکے پیٹ کوصحت مند رکھتاہے۔ گُڑ گُڑ میں میگنیشیم وافرمقدار میں پایا جاتا ہے، جو نظام ہضم کو قوت بخشتا اور تیزابیت ختم کرتا ہے۔ کھانے کے بعد گُڑ کا چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوسیں۔ اس کے استعمال سے جسم کا درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے۔ تلسی کے پتے تلسی کے پتوں میں بھی معدے کی گیس ختم کرنے والی خصوصیات موجود ہیں۔ لہٰذا جب بھی پیٹ میں گیس محسوس ہو تلسی کے چند پتے دھوکر چبالیں یا دو سے تین پتوں کو ایک کپ پانی کے ساتھ اُبالیں، چند منٹ پکنے دیں اور پھر چھان کر پی لیں۔ سونف کھانے کے بعد سونف کے چند دانے کھا لینا بھی تیزابیت سے بچا جاسکتا ہے۔ اس میں موجود تیل بدہضمی اور پیٹ کو پھولنے سے بچاتا ہے۔ نظام ہضم درست رکھنے کے لیے سونف کی چائے بھی فائدہ مند ہے۔ ان غذاؤں کے علاوہ، کیلے، ٹھنڈا دودھ یا ناریل کا پانی پینا بھی فوری ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔ زیرہ کے چند دانے چبانا یا اس کا پانی پینا، سبز الائچی کے 2 دانوں کو پانی میں اُبال کر اُسے ٹھنڈا کرکے پی لینا، ایک چائے کے چمچ سیب کے سرکے کو ایک گلاس پانی میں ملاکر خالی پیٹ استعمال کرنا بھی تیزابیت میں فوری ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔ احتیاط ایک طرف جہاں مندرجہ بالا غذائیں کھانے سے تیزابیت میں معدے کو فائدہ پہنچتا ہے، وہاں ان غذاؤں کے ساتھ ساتھ اگر چند احتیاطوں پر بھی عمل کرلیا جائے تو فائدہ زیادہ اور تیز تر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آہستگی سے کھائیں اور نوالہ اچھی طرح چبائیں، سونے سے تھوڑی دیر پہلے کھانے سے گریز کریں، بلکہ آخری غذا نیند سے3گھنٹے پہلے کھائیں، بہت زیادہ مسالے دار کھانوں اور تمباکو نوشی سے گریز کریں، ساتھ ہی ذہنی تناؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *