کاجو ! وٹامن اور منرلز سے بھرپور

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گھروں میں خشک میوہ جات کا استعمال برھ جاتا ہے ۔ سردیوں میں موسمی اثرات سے بچاؤ کے لئے یہ بہت مفید ہیں ۔خشک میوہ جات میں ایک خوش ذائقہ میوہ کاجو بھی ہے۔
کاجو جنوبی ہندوستان کے جنگلوں میں کاشت کی جاتی ہے ۔ اس کے درخت کی بلندی دس سے بارہ میٹر ہوتی ہے ۔ اس درخت سے زرد مائل گوند نکلتا ہے ۔ اس کی شاخوں سے چار انگشت ٹوپی جسی نکلتی ہے پھر اسمیں پھل لگتا ہے جس کی پیندی چوڑی ہوتی ہے ۔ سرپتلا اور بے نوک ہوتا ہے ۔ اس پھل چھلکا بہت نرم ہوتا ہے جو اوپر سے سرخ یا زردی مائل ہوتا ہے ۔ اس کا مغز میٹھا ہوتا ہے ۔ اس پھلے کے نیچے دورگیں دو خطوں کی طرح نکلتی ہیں ان دونوں کے درمیان دو بیج بندھے رہتے ہیں جن کی شکل گودے جیسی ہوتی ہے ۔ چھلکوں کے اندر سفید مینگ سی ہوتی ہے ۔ جس کا مزہ لذت سے بھرپور ہوتا ہے ۔ کھانے میں بادام سے مشابہت رکھتا ہے ۔یہی کاجو ہے ۔ کاجو کی برفی برصغیر کی ایک پسندیدہ مٹھائی ہے جو بہت لذیذ ہوتی ہے دنیا بھر میں کاجو کا استعما ل بہت ذوق وشوق سے کیا جاتا ہے ۔ اس میں گائے کے قیمے جتنی طاقت ہوتی ہے ۔ سوگرام کاجومیں سو حرارے اور 51فیصد گرام چکنائی ہوتی ہے ۔ کاجو میں موجود چکنائی اچھی چکنائی کہلاتی ہے جو ہماری صحت کے لئے مفید ہے ۔ ہائی بلد پریشر کے مریض کو نمکین کاجو سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ یہ صحت بخش خشک میوہ ہے کیونکہ اس میں کولیسٹرول نہیں ہوتا ۔ یہ ذیابطیس دور کرنے میں بھی مددگار ہوتا ہے ۔ کاجو کے بیج میں ایسے قدرتی اجزاء پائے جاتے ہیں جو خون میں موجود انسولین کو عضلات کے خلیوں میں جذب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس میں کیلشیم ، میگنیشیم اور تانبا کافی مقدارمیں موجود ہے ۔ خواتین اپنے کھانوں میں بھی مختلف طریقوں سے اسے استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے علاوہ اسے سلاد میں بھی استعمال کی اجاتا ہے ۔ اس صحت بخش میوے کو ضرور استعما ل کریں تاکہ آپ صحت مند رہیں ۔
دل کو صحت مند رکھنے والی مغزیات :
تازہ بھنے ہوئے کاجو کی خوشبو ہی بڑی اشتہاء انگیز ہوتی ہے اور جب ہم اسے کھانا شروع کرتے ہیں تو ہاتھ روکنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کاجومیں چکنائی ہوتی ہے اور اسے کھانے سے بلڈ کولیسٹرول زیادہ ہوجائے گا ، وزن بڑھ جائے گا اور شاید دل کی شریانوں کو بھی نقصان پہنچے گا ۔

کاجو میں چکنائی کی مقدار 51فیصد ضرور ہے مگر یہ اچھی چکنائی ہے ۔ اگر آپ سوگرام کاجو بھی کھالیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ 10چائے کے چمچ کے برابر روغن استعمال کرلیا ہے ۔ بے فکر ہوجائیے کہ یہ چکنائی مضر صحت نہیں بلکہ غدودوں اور عضلات کے افعال کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ آپ دیگر غذاؤں میں شامل چکنائیوں سے پرہیز کرلیں مگر گری دار میوں کو اعتدال کے ساتھ خوراک کا حصہ بنالیں تو بہت حد تک طرز غذا متوازن رہے گی ۔ صحت بخش خوراک کے توازن کو متاثر نہ ہونے دیاجائے تو آپ کا وزن صحت مند حد کے اندر رہتا ہے ۔

یاد رکھیں کہ اعتدال نہ صرف مغزیات کے استعمال میں بلکہ زندگی کے اکثر شعبوں میں منافع کا سود ہوتا ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*