بچوں میں ڈائپرز کا بے جا استعمال اور اس کے شدید نقصانات

موجودہ دور میں ہرشے کو ڈسپوز ایبل بنانے یعنی ایک یا ایک سے زائد بار استعمال کرکے ضائع کردینے کا رجحان عام ہورا ہے ۔ ان اشیاء میں شیونگ ریزر، سافٹ ڈرنکس ، سیل پیک دودھ کے ڈبے اور انسانی صحت اور ماحول دشمن پولی تھین کی تھیلیاں وغیرہ شامل ہیں ۔ ڈسپوز ایبل پولی ٹھین کی تہہ سے بنی ہوئی بچوں کی نیپز اور ڈائپرز کا استعمال بھی والدین میں عام ہورہاہے ۔ متوسط اور غریب طبقے کے برعکس امیر طبقے میں ان نیپیز اور ڈائپرز کے استعمال کا رجحان بہت زیادہ ہے اس کی ایک وجہ کپڑے کی (دوبارہ استعمال ہونے والی اور ماحول دوست) نیپیز کو بار بار دھونے کی زحمت سے بچنا بھی ہے ۔

مردانہ بانجھ پن :
جرمنی میں ہونے والی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ پولی تھین کی ڈسپوز ایبل ڈائپرز بچوں میں مردانہ بانجھ پن کا سبب بن رہا ہے ۔ جرمنی کی یونیورسٹی آف کیل کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے ڈائپرز استعمال کرنے والے معصوم بچوں کے خصویں کے گرد درجہ حرارت میں اضافہ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ان کو بچپن ہی میں مرادانہ بانجھ پن کا روگ لگا جاتا ہے ، وہ بچے جو اپنی قوت مدافعت سے پلاسٹک کی ان نیپیز اور ڈائپرز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتے ہیں ، ان کا Count Spermبے حد کم رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ صاحب اولاد نہیں ہوسکتے ۔

ہمارے ملک میں گذشتہ چند سالوں سے ڈسپوز ایبل ڈائپرز کا استعمال عام ہوگیا ہے ۔ میڈیاپر ان کی بے پناہ تشہیرنے بیشتر سست اور کاہل ماؤں کو ان کا عادی بنادیاہے ۔ اس سے قبل مائیں اپنے بچوں کے لئے سوتی کپڑے کی نیپیز استعمال کرتیں تھیں جو نہ صرف سستی تھیں بلکہ دوبارہ استعمال کے قابل بھی ہوتی تھیں ۔

کپڑے کی یہ نیپیز بچوں کی صحت اور قدرتی ماحول کے لئے کسی قسم کے کوئی مسائل پیدا نہیں کرتی تھیں ۔ رفع حاجت کے فوراً بعد کپڑے کی ان نیپیز سے گیلا پن محسوس ہوتا تھا مگر پلاسٹک کے ڈائپر میں ایسا نہیں ہوتا جب تک کہ ان کو کھول کر دیکھانہ جائے ۔ مہنگی ہونے کی وجہ سے اکثر والدین ان ڈائپرز اور نیپیز کو ایک بار بچے باندھنے کے بعد گھنٹوں دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے بچوں کے نازک اور حساس اعضاء سے گھنٹوں غلاظت کا تھیلا بندھا رہتا ہے جو بچوں میں نازک اعضاء کے گرد خارش کے مرض ایک اہم سبب ہے ۔

پلاسٹک کی یہ نیپیز اور ڈائپرز بچوں کی جلد کے لئے کس قدر نقصان دہ ہیں ، اس کے لئے آپ کو کسی ڈاکٹر یا چائلڈ اسپشلسٹ کے پاس جانے کی قطعی ضرورت نہیں ، سردیوں میں تین گھنٹے اور گرمیوں میں صرف دو گھنٹے تک اپنے نو نہال کو پلاسٹک کی ڈائپرذ باندھیں اور پھر بچے کی جلد کو غور سے مشاہدہ کرکے دیکھیں ، آپ کو بچے کی جلد گہری سرخ دکھائی دے گی ۔ نادانستگی میں بچوں کی نازک اور حساس جلد پر اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*