ڈی ہائیڈ ریشن سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اور علاج

پانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے، اس کی کمی پورے جسم پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔پانی کی شدیدکمی یعنی ڈی ہائیڈریشن موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔جسم میں پانی کی کمی آہستہ یا فوری طور پر ہو سکتی ہے۔ہائیڈریشن کی شدید علامات ظاہرہونے پر مریض کو فوری طبی امداد دینی چاہئے۔ اکثر موسم گرمامیں گرمی کی شدّت ،زیادہ پسینے آنے اور پانی نہ پینے یا کم پینے کی وجہ سے ڈی ہا ئیڈریشن یعنی جسم میں پانی کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اگر جسم میں پانی کی مقدار مناسب نہ ہو تو انسانی جسم صحیح طریقے سے کام نہیں کر سکتا۔اسی طرح جسمانی رطوبتوں مثلاً پسینہ، تھوک، آنسو اور پیشاپ وغیرہ کے ذریعے جسم سے پانی خارج ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ بیماریاں بھی ایسی ہیں جو جسم میں پانی کی کمی کی وجہ بن سکتی ہیں۔ مثلاً متلی، الٹی وغیرہ کیونکہ اس میں جسم سے کافی پانی نکل جا تا ہے۔ بخار کی حدّت یعنی بخار کی گرمی کی وجہ سے پانی کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اسہال سے بھی جسم میں پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ پسینہ آنا، یا بار بار پیشاپ آنا بھی ڈی ہائیڈریشن کا سبب بن سکتا ہے۔ پانی کی کمی اس وقت ہوتی ہے جب جسم کو اتنا پانی نہ مہیا کیا جائے جتنا مختلف رطوبات میں سیال کی صورت میں جسم سے خارج ہو رہا ہوتا ہے۔اگر جسم سے خارج ہونے والے سیالوں کی کمی کو پانی، دودھ سبزیوں پھلوں میں موجود سیالوں سے پورا نہ کیا جائے تو تو پانی کی کمی کی شکایت پیدا ہونا لازمی ہے۔ انسانی جسم میں پانی کی کمی انسا نی جسم میں کچھ مسائل پیدا کردیتی ہے۔جسم میں پانی کی کمی کی شکایت کی علامات حسب ذیل ہیں۔ مثلاًگلے یا منہ کا خشک ہونا۔ ہونٹ خشک ہونا، پیشاب کا گہرا زرد رنگ، سر درد،بھوک کم لگنا،دل گھبرانا،بازو،ٹانگوں اورمعدے کادرد، طبی ماہرین کے مطابق جسمانی سرگرمی کے دوران اگر پٹھے یعنی مسلز اکڑ جائیں تو یہ ڈی ہائیڈریشن اور الیکٹرولائٹ کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، کیونکہ جسم انسانی اہم منرلز جیسے سوڈیم اور پوٹاشیم کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے۔یہ منرلز جسم میں پانی کی سطح کا توازن بحال رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور اعصابی نظام کے افعال کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔چہل قدمی کے دورران ہی مسلز میں تکلیف یا کھچاؤ کا احساس ہو تو یہ بھی پانی کم پینے کی نشانی ہوسکتی ہے۔پیاس لگنا اور تھکن اس کی عام علامات ہیں۔ اگر منہ اکثر خشک محسوس ہو، یا ہر وقت پیاس کا احساس ہو تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے مشورہ کرلیں۔

شدید پانی کی کمی کی علامات میں مزاج میں چڑچڑاپن،پیشاب کی کمی یا گہرا پیلا پیشاب آنا۔ توانائی کی کمی، بے ہوشی، چکر ٓانا ،متلی کا احساس ہونا، دھنسی ہوئی آنکھیں، نیندکاغلبہ، توانائی کی کمی، الجھن ،نبض اور سانس میں تیزی، سانس لینے میں دشواری پیدا ہونا ، آواز میں نقاہت،دل کی دھڑکن کا تیز ہونا،بہت خشک جلد ہونا،38ڈگری سینٹی گریڈیا اس سے زیادہ درجہ حرارت ، موسم گرما میں فلو جیسی یہ علامات ڈی ہائیڈریشن کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں جس میں لوگوں کو بخار یا ٹھنڈ لگنے کا احساس بھی ہوسکتا ہے، جو پانی کی بہت زیادہ کمی کا باعث ہوتا ہے۔بچوں یا بڑوں دونوں میں ڈی ہائیڈریشن کی شکایت ہو سکتی ہے۔ چھوٹے اور بڑے بچوں میں اس کی علامات بڑوں سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ شیرخوار اوربچوں کو پانی کی کمی مہلک ہوسکتی ہے۔ بچوں میں ڈی ہائڈریشن کی علامات پر دھیان دینا بہت ضروری ہے۔کیونکہ چھوٹے بچے یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کو پیاس لگی ہے۔یہ ذمہ داری والدین کی ہے کہ ان علامات پر توجہ دیں۔مثلا بچہ کسی بھی قسم کا مشروب ٹھیک طرح نہ پی پائے ۔پیشاب کی تھوڑی مقدار لیکن اس کی رنگت گہری ہو۔ آنکھوں کی پتلیاں ایک جگہ نہ ٹھہریں یعنی آنکھیں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوں اورروتے وقت آنسو نہ ہوں۔شروع شروع میں بچہ پیاسا اور بے چین دکھائی دے۔ لیکن بعد میں خاموش اور پرسکون ہوجائے۔ تین سے چار گھنٹوں بعد بھی ان کا ڈائپر خشک ہو، ان کا منہ اور زبان خشک ہو، غنودگی، آنکھوں کا دھنسنا، خشک ہونٹ یا ہونٹوں پرخشک پپڑی جمنا، چڑچڑاپن، توانائی کی کمی،بے چینی، جو واضح طور پر محسوس ہوجائے۔ کمزور اور لاغر نظر آنا وغیرہ ۔ دوسری بات یہ کہ چھوٹے بچوں کواکثر اسہال اور الٹی کی شکایت عام ہوتی ہے۔ اس لئے شدید اسہال اور الٹیاں ہونے کی صورت میں ان کو پانی کی کمی کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ ماہرین نے ڈی ہائیڈریشن جاننے کے لیے ایک انتہائی آسان طریقہ بتایا ہے جس کے ذریعے آپ باآسانی جسم میں پانی کی کمی معلوم کرسکتے ہیں۔اس طریقہ کار کے مطابق آپ ہاتھ کی جلد کو چٹکی کے انداز میں پکڑ کر اسے چند سیکنڈز تک کھینچ کر رکھیں اور کم ازکم تین سیکنڈ کے بعد اسے چھوڑ دیں، اگر چھوڑنے کے فوری بعد جلد اپنی اصلی حالت میں آجائے اور اس کا رنگ تبدیل نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ جسم میں پانی کی کوئی کمی نہیں تاہم اگر فوری کے بجائے جلد اصلی حالت میں واپس آنے کے لیے تھوڑا وقت لے اور اس کا رنگ تبدیل ہوجائے تو یہ ڈی ہائیڈریشن کی نشانی ہے۔ بچوں کے جسم میں پانی کی کمی جانچنے کے لیے بچوں کے پیٹ پر چٹکی والے انداز سے مذکورہ طریقہ کار کو انجام دے کر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ڈی ہائیڈریشن کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں پانی کا استعمال زیادہ کرنے کے ساتھ ساتھ جلد پر نمی پیدا کرنے والی کوئی چیز لگا دیں۔ڈی ہائیڈریشن نوزا ئیدہ بچے میں ہویابڑی عمر کے بچے میں،فوری توجہ اور علاج کامستحق ہوتا ہے۔ڈی ہائیڈریشن میں مبتلا شیرخوار بچوں کی مائیں اس بات کاخصوصی اہتمام کریں کہ وہ بچے کو تھوڑی تھوڑی دیر میں دودھ ضرور پلاتی رہا کریں ہیموفیلس انفلوئنزا کے شدید انفیکشن کاشکار ہونے والے بچے گردن توڑبخار اور حلق سوج جانے کے باعث سانس رُکنے کی خطرناک کیفیت سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں فورا قریبی چائلڈاسپیشلسٹ سے رجوع کریں اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔

بزرگ افراد کو اکثر اوقات پیاس محسوس ہی نہیں ہوتی یا وہ سیال چیزیں کم استعمال کرتے ہیں۔ انہیں بخار ہونے کی صورت میں بھی ان کے جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔ پسینہ خارج ہو نے کی صورت میں مسلسل پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہوتا ہے، دن بھر میں وقفے وقفے سے پندرہ سے بیس گلاس پانی ضرور پینا چاہئے ۔ وہ افراد بھی ڈی ہا ئیڈریشن کا شکار ہو سکتے ہیں جنہیں گلے میں دکھن یا انفیکشن ہو، سردرد، قبض کی شکایت، یا نزلہ، زکام یا بخار کی وجہ سے وہ کم کھا پی رہے ہوں۔ اگر مناسب مقدار میں پانی نہ پئیں یا سیال غذائیں استعمال نہ کی جائیں تو جسم پانی کی کمی کا شکار ہو جائے گا۔ پانی کی کمی کی وجہ سے بلڈ پریشر کافی کم ہو سکتا ہے، چکر آسکتے ہیں۔ پانی کی کمی سے جسم کے اندر سے زہریلے مادے پوری طرح جسم سے خارج نہیں ہوپاتے اور جسم میں ہی رک جاتے ہیں جس کی وجہ سے کئی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

احتیاطی تدابیر اورجسم کو پانی کی مناسب مقدار مہیا کرنے سے ڈی ہا ئیڈریشن کے خطرے سے بچا جا سکتا ہے۔شدید گرمی اورلو میں ایک بجے دوپہر سے 4 بجے سہ پہرکے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر یا آفس کے اندر رہنے کی کوشش کریں کیونکہ لُویا ہیٹ ویوز ہونے کی صورت میں جسم کا درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ہونے کا امکان ہوجاتا ہے جس سے جسم کا کنٹرولنگ سسٹم بھی متاثر ہونے لگتا ہے اور اس سے جسم کے پٹھے اکڑنے لگتے ہیں، جسم کا پانی کم ہو جانے سے متاثرہ افراد کو سر درد، چکر آنا اور متلی والی کیفیت ہونے لگتی ہے، جسم کے اہم حصوں میں خون کی رسائی معمول کے مطابق نہیں ہوتی، متاثرہ افراد کو قے بھی ہونے لگتی ہے، جسم نڈھال ہوجاتا ہے،ایسے مریض کو فوری طور پر ہسپتال لے جائیں،تاخیرجان لیواثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ذیابیطس کے مریضوں کو گرم موسم میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرم موسم میں یومیہ کم ازکم 3 لیٹر پانی ضرور استعمال کریں، گردے کی بیماری والے افراد دن میں مسلسل پانی پیتے رہیں اور بلڈ پریشر پربھی نظر رکھیں کیونکہ جسم میں پانی کی کمی سے ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے، ایسی صورتحال میں بچوں بڑوں سب کو فوری طور پر او۔ آر۔ ایس کا تیار شدہ مشروب پلایا جائے ۔دوسال سے زائد عمر کے بچوں کو سکنجبین(لیموں پانی) پلانے سے بھی ڈی ہائیڈریشن کی شدت میں کمی کی جاسکتی ہے۔ ڈی ہائیڈریٹ مریض کو ٹھنڈے مقام پر منتقل کر دیا جائے۔ لٹادیں اور پیروں کو تھوڑا سا اٹھائیں۔کثرت سے تھوڑا تھوڑا پانی پلائیں ۔جلد کو ٹھنڈاکریں۔پانی کی پٹیاں کریں اور پنکھے کی ہوا دیں۔ بغلوں یا گردن کے گرد کولڈپیک رکھنا بھی اچھاہے،متاثرہ مریض کو اکیلا مت چھوڑیں۔طبیعت زیادہ خراب ہو تومریض کوقریبی ہسپتال منتقل کردیں۔شہری ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لئے پانی پیتے رہیں۔ ٹھنڈے پانی سے نہائیں۔ہلکے رنگ کا کھلا لباس پہنیں ۔چہرے اور کپڑوں پر پانی ڈالیں۔گرمی کے اوقات میں غیرضروری باہرنکلنے سے پرہیز کریں۔ ورزش کے وقت چونکہ پسینے کے ذریعے جسم سے پانی کا اخراج مزید بڑھ جاتا ہے لہذا زیادہ ورزش سے پرہیز کریں۔ ورزش سے قبل، دوران ورزش اور بعد میں پانی کا ذیادہ استعمال انتہائی اہم ہے۔ نمکیات ملا پانی زیادہ فائدہ مند ہے ۔موسم گرما میں پانی اور مشروبات کا استعمال لازمی کریں ۔طب یونانی میں روایتی طور پر سکنجبین، شربت بزوری،فالسہ ،آلوبخاراکے مشروبات اور تخم بالنگو،گوندکتیرا ،وغیرہ استعمال کرکے گرمی اور ڈی ہائیڈریشن کے مضر اثرات سے خود کو محفوظ رکھاجاسکتاہے۔موسم گرما میں دہی اور دہی کی لسی کا بھی استعمال کریں۔ پانی سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں کا استعمال اپنی روزمرہ کی خوراک میں بڑحا دیں۔مثلا تربوز، کینو، ناشپاتی، سیب، انناس ،موسمبی کا رس ،سردا اور گرما کا استعمال مفیدہوتاہے۔ابلاہواٹھنڈا پانی پئیں، موسم سرما میں نیم گرم پانی کا استعمال کرنا چاہیئے ۔کیفین ملے مشروبات اور گوشت کے استعمال سے پرہیزکریں۔ یادرکھیں، ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤکے لئے پانی کابکثرت استعمال اور احتیاطی تدابیر اختیارکرنا بیحدضروری ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*