سردیوں میں چقندر کے حیران کن فوائد

جاڑے آگئے چھٹتی گھٹائیں ، گھٹتے دن ، گرد سے پاک ہوا ، فضا ء میں بڑھتی خشکی اور دھیرے دھیرے ٹھنڈی ہوتی راتیں اس کی گواہی دے رہی ہیں ۔ اسی کے ساتھ اس موسم کے پھل اور سبزیاں بھی بازاروں میں نظر آنے لگی ہیں ۔ ان میں چقندر ، پھر مولی ، شلجم اور گاجریں آرہی ہیں ۔ یہ سب صحت و توانائی کا سامان کرتی ہیں ۔ چقند ر بحیرہ روم کے ملکوں کا تحفہ ہے ۔ اکیسویں صدی میں اس کے بیج شمالی یورپ پہنچے اور وہاں کی جڑی بوٹیوں کے ماہرین کے مطابق چقندر نے ذائقے کو راحت اور آنکھوں کو ٹھنڈی بخشی ۔ اس کے سبز پتے اور چقند ری سرخ رنگ ذائقے کے علاوہ رنگ اور شوخی کھانوں کو عطا کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں بھی چقند ر استعمال ہوتا ہے ۔ گاؤں دیہات میں بطور سالن اور شہرو ں میں زیادہ تر بطور سجاوٹ ۔ اس کے پتے عام طورپر بڑی بے دردی سے مروڑ کر پھینک دیئے جاتے ہیں حالانکہ غذائی اعتبار سے یہ بہت اہم ہوتے ہیں ۔ ان میں حیاتین الف ( اے ) حیاتن ج (سی) اور فولاد بھی خوب ہوتا ہے ۔ جبکہ جڑ میں حیاتین الف ، ب اور ج کیلشیم اور فولاد ہوتا ہے ۔ یہ اجزاء غذا سے ملتے رہیں تو جسم کا نظام مدافعت مضبوط رہتا ہے اور جاڑے آسانی اور آرام سے گزر سکتے ہیں ۔

چقند ر بطور دوا :
چقندر کے کھانے سے خون کے سرخ خلیات خوب بنتے ہیں ۔ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ اگر سرطان خون ( لیو کیمیا) کے مریض کو علاج کے ساتھ روزانہ ایک کلو چقندر کھلائے جائیں تو اسے بہت فائدہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں سرطان دور کرنے والاجو ہر لائکو پین خوب ہوتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ ایک ہی وقت میں ایک چقندر کھائیں ۔ دن میں تین چار مرتبہ کھاکر بھی یہ مقدار پوری کی جاسکتی ہے لیکن چقندر تازہ ہونا چاہیے ۔ اس کا رس نکال کر بھی پیا جا سکتا ہے ۔ چقندر کا رس ایک پیالی دن میں تین مرتبہ پینے سے گردے اور مثانے کی پتھری بھی نکل سکتی ہے ۔ اس سے گردے اور مثانے کا ورم بھی دور ہو جاتا ہے ۔ یہی رس یرقان کیلئے بھی مفید ہوتا ہے کیونکہ گنے کے رس کی طرح اس میں بھی شکر ہوتی ہے ۔ اسی طرح یہ رس گٹھیا کے لئے بھی مفید ثابت ہو تاہے بشرطیکہ مریض کو ذیابیطس نہ ہو ۔

چقند ر کار وسی سوپ :
تازہ چقندر 900گرام ، تازہ بندگوبھی ( سفید) ایک عدد ، گوشت کی یخنی دس پیالی ، تازہ مکھن ایک کھانے کا چمچ ، سرکہ بقدر ضرورت ، نمک بقدر ضرورت ، کالی مرچ بقدر ضرورت ، دہی پھینٹا ہو اچھ کھانے کے چمچ ، ہرا دھنیا ایک گڈی ، چقند ر چھیل لیں ۔ دو چقندر ثابت رہنے دیں ۔ باقی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں ۔ یخنی میں ہر ادھنیا اور چقند ر اور گوبھی کے ٹکڑے ڈال کر دھیمی آنچ پر ڈیڑھ دو گھنٹے پکنے دیں جب دونوں گل کر گھل جائیں ، چھلنی میں چھان لیں ۔ اب باقی گوبھی اور چقندر کو کدوکش کرلیں ۔ پتیلی میں مکھن گرم کرکے گوبھی چقندر کے لچھے کو بارہ منٹ تک پکنے دیں ۔ اس میں سوپ شامل کردیں ، خوش رنگ سرخ سوپ تیار ہوگا ۔ حسب ذائقہ سرکہ ، نمک ، مرچ ڈال کر پیالوں میں نکالیں اور ہر ایک میں ایک ایک چمچہ پھینٹا ہو ا دہی ڈال کر گرم گر م پیش کریں ۔ جی چاہے تو باریک کٹی ہوئی ہری مرچیں ڈال کر پاکستانی ذائقے کی تکمیل کرلیں ۔ یہ سوپ چھ افراد کیلئے کافی ہوگا ۔

رومانیہ کا چقندی سوپ :
چقندر درمیانے پتوں کے ساتھ چھ عدد ، مرغی کی یخنی آٹھ پیالی ، پیاز کٹی ہوئی ڈیڑھ پیالی ، بغیر بالائی کا دہی ڈیڑھ پیالی ، مولی ( نرم ) پتلی کٹی ہوئی ایک پیالی ، لیموں کا رس دو کھانے کے چمچ ، سویا تازہ کٹا ہو ا دو کھانے کے چمچ ، ہرا دھنیا کٹاہوا یک کھانے کا چمچ ، سیا ہ مرچ پسی ہوئی بقدر ذائقہ ، نمک بقدر ذائقہ ، چقندر اچھی طرح دھو کر چھیل کر کاٹ لیجئے ۔ پتیلی میں مرغی کی یخنی گرم کرکے اس میں چقندر کٹی ہوئی پیاز ، مولی ، چقندر کے پتے ڈال کر کوئی بیس منٹ ڈھک کر درمیانی آنچ پر پکائیے ۔ سبزیاں گل جائیں تو اس میں دہی پھینٹ کر ملادں ۔ لیموں کا رس سویا ہر ا دھنیا نمک مرچ شامل کرکے پیش کریں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*