صاف شفاف جلد اور نکھار کیلئے ملتانی مٹی مفید ہے

موسم میں تبدیلی، فضائی آلودگی اور مضر صحت غذاؤں کے منفی اثرات سب سے پہلے چہرے پر آتے ہیں جس کے نتیجے میں چہرے پر دانے، ایکنی، کیل مہاسے اور اُن کے سبب بد نما داغ دھبے بننے لگتے ہیں جن سے نہایت آسانی اور بغیر بھاری بھرکم رقم خرچ کیے جان چھڑائی جا سکتی ہے ۔
ملتانی مٹی کا قدیم زمانے سے استعمال چلا آرہا ہے، خواتین چہرے کی خوبصوتی بڑھانے کے لیے اس کا استعال اپنے چہرے سمیت بالوں پر بھی کرتی ہیں جس کے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں
ملتانی مٹی تقریباً ہر قسم کی جِلد اور جِلد سے جڑی متعدد بیماریوں کا موزوں علاج ہے، اگر اسے دوسرے اجزا کے ساتھ ملا کر لگایا جائے تو اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور چہرے کی خوبصورتی میں ناصرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے استعمال سے دیر پا جِلدی بیماریوں سے بھی دور رہا جا سکتا ہے، یہ ناصرف جِلد بلکہ سر کے بالوں کی صفائی اور سر کی جِلد کی صحت کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔ ملتانی مٹی کےفوائد بڑھانے کے لیے اس میں ایلوویرا جیل ( گھیکوار) ، روغن بادام، عرق گلاب، شہد، انڈے کی سفیدی، دودھ، لیموں کا عرق، کینو کے چھلکوں کا پاؤڈر اور بیسن وغیرہ شامل کیا جا سکتا ہے، ملتانی مٹی میں ان اجزا کے استعمال سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جبکہ بالوں کی خوبصورتی اور سر کی جلد سے چکناہٹ کے خاتمے کے لیے ملتانی مٹی میں عرق گلاب اور لیموں کا رس ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے اور بعد ازاں جیسے سر سے مہندی دھوئی جاتی ہے ایسے ہی ملتانی مٹی بھی با آسانی دُھل جاتی ہے۔ اجوائن، سونف اور زیرے کے قہوے کے حیران کُن فوائد پیاز کے استعمال سے صحت اور خوبصورتی پرجادوئی فوائد ملتانی مٹی کی افادیت اب سائنس نے بھی مان لی ہے اسی لیے مختلف کاسمیٹک برانڈ کی بھی اب ملتانی مٹی سے تیار شدہ براڈکٹس یا مَڈ ماسک کے نام سے مختلف ماسک مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں ۔ ملتانی مٹی سے بنایا گیا ماسک چہرے پر لگانے سے قبل چہرے کی جِلد کا صاف اور دھلا ہوا ہونا لازمی ہے، اسی لیے اگر ممکن ہو تو ملتانی مٹی کا ماسک لگانے سے قبل چہرے پر 5 سے 7 منٹ کے لیے کسی مائلڈ کلینزنگ سے مساج کرنا مفید ثابت ہوتا ہے، ملتانی مٹی کا ماسک دھونے کے بعد چہرے کی جلد یا بالوں کو موسچرائز بھی کرنا چاہیے تاکہ اس کی افادیت مزید گنا بڑھ جائے۔ لوبیا کے صحت پر حیرت انگیز فوائد ملتانی مٹی سے بننے والے مفید اور حیرت انگیز نتائج دینے والے ماسک : خشک جلد کے لیے خشک جلد کے لیے ملتانی مٹی، کچا دودھ، چند قطرے زیتون کا تیل، صندل کی لکڑی کا پاؤڈر اور کینو کے خشک چھلکوں کا پاؤڈر حسب ضرورت لے لیں، اب ان سب اجزا کو کانچ کے برتن میں عرق گلاب کی مدد سے مکس کر لیں اور 20 سے 25 منٹ کے لیے چہرے پر لگا لیں۔ نارمل جلد کھیرے کا رس یا گاجر کا جوس لے لیں، ملتانی مٹی، صندل لکڑی کا برادہ، کینو کے خشک چھلکوں کا سفوف، ان سب اجزا کو مکس کر لیں اور چہرے پر لگا لیں ۔ گرمیوں میں جِلد کو نکھرا و شاداب کیسے بنایا جائے؟ ایلوویرا کے صحت اور خوبصورتی سے متعلق فوائد چکنی جلد چکنی جِلد سے اضافی چکناہٹ اور کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے ایلوویرا یا لیموں کا عرق ( عرق گلاب بھی لیا جا سکتا ہے )، ملتانی مٹی، انڈے کی سفیدی، صندل لکڑی کا برادہ، کینو کے خشک چھلکوں کا سفوف لے لیں، ان سب اجزا کو یک جان ملائیں اور چہرے پر لگا لیں اور 20 سے 25 منٹ کے لیے سکون سے لیٹ جائیں، جلد کو پر سکون وقت دیں، سوکھنے پر چہرہ دھو لیں۔ کیل مہاسے والی جلد لیموں کا عرق، کچا دودھ، عرق گلاب، ملتانی مٹی، صندل لکڑی کا پاؤڈر، کینو کے خشک چھلکوں کا سفوف یک جان ملائیں اور چہرے پر لیپ کر لیں، اس عمل کو روزانہ دہرایا جا سکتا ہے اور اس ماسک میں بیسن کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس موسم گرما ’تخم بالنگا‘ سے فائدہ اُٹھائیں چاولوں کے فیشل کے چہرے پر حیرت انگیز نتائج جھریوں والی جلد جھریوں والی جِلد کو ٹائٹ کرنے کے لیے انڈے کی سفیدی، پھٹکری کا پاؤڈر، روغن بادام ، عرق گلاب، ملتانی مٹی، صندل کی لکڑی کا پاؤڈر اور کینو کے چھلکوں کا سفوف یک جان ملائیں اور چہرے پر لگا لیں۔ سوکھنے پر اس ماسک کو پانی کی مدد سے گیلا کریں اور چہرے پر ہلکے ہاتھ سے مساج کرتے ہوئے اتار لیں۔ ملتانی مٹی کا ماسک چہرے کے لیے بہترین اسکرب بھی ثابت ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

3دن میں 5 کلو وزن کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

وزن کا بڑھنا بہت عام اور آسان بات ہے مگر اس بڑھے ہوئے وزن سے جان چھڑانا اور دوبارہ سے سلم اسمارٹ جاذب نظر آ نا نہایت مشکل کام ہے، مگر اس مشکل کام کو شروع کرنے سے پہلے چند آسان طریقے اپنا کر خود کو وزن کم کرنے کے لمبے سفر کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔
کلینیکل ڈائیٹیشن عائشہ ناصر کا کہنا ہے کہ جب کوئی انسان وزن کم کرنے کا سوچ کر ڈائیٹنگ یا ورزش شروع کرتا ہے تو اکثر اوقات شروع میں وزن میں کمی نہیں آتی اور انسان وزن کم نہ ہونے کی صورت میں اسے ناممکن سمجھ کر مایوس ہو بیٹھتا ہے۔
اگر اسی دوران ایک ایسی ڈائیٹ کر لی جائے جس سے 3 دنوں میں 5 کلو وزن کم ہو جائے تو وزن میں کمی کے خواہشمند افراد میں ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ خود کو اس سفر کے لیے مزید بہتر طریقے کے لیے تیار کر لیتے ہیں۔
3 دنوں مں پانچ کلو وزن کم کرنے کے لیے کی جانے والی ڈائیٹ کا نام ’ایگ ڈائیٹ ‘ ہے، اس ڈائیٹ پلان کے دوران ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانوں کے دوران صرف انڈے ہی کھائے جا سکتے ہیں باقی سب غذائیں سختی سے منع ہیں جبکہ اس ڈائیٹ کو 3 الگ طرح سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
ایگ ڈائیٹ کون کر سکتا ہے، کس کے لیے نقصان دہ ہے، فوائد کیا ہیں، دوبارہ وزن کو بڑھنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے ان سب کا جواب مندرجہ ذیل ہے :

انڈہ ڈائیٹ

انڈہ ڈائیٹ کی پہلی قسم کے دوران دن میں 6 سے 7 انڈے کھائے جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ کوئی بھی غذا لینا منع ہے، صبح ناشتے میں 2 سے 3 انڈے ابال کر یا نان اسٹک پین میں ایک چمچ تیل میں فرائی کر کے کھائے جا سکتے ہیں ، دن میں سادہ پانی کے علاوہ صرف گرین ٹی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس کی دوسری قسم یہ ہے کے سارے دن میں 4 سے 6 انڈے لیں اور ساتھ میں دودھ کے دو گلاس ڈائیٹ میں شام کر لیں، اس ڈائیٹ کے دوران انڈوں کے ساتھ فائبر لینے کے لیے اسپغول کا چھلکا پانی میں گھول کر پیا جا سکتا ہے۔
ایگ ڈائیٹ کے دوران دودھ کا استعمال خاطر خواہ نتائج نہیں دیتا، دودھ سے بہتر ہوگا کہ دن کا ایک کھانا کسی اور غذا کے ساتھ تبدیل کر لیا جائے جیسے کہ دوپہر کے دوران ایک بڑا باؤل سلاد کا یا صبح کے دوران ایک مکمل ناشتہ، اس صورت کو ایگ ڈائیٹ کی تیسری قسم بھی کہا جاتا ہے۔
ایگ ڈائیٹ کی تیسری صورت یہ ہے کہ دن کا کوئی ایک کھانا کسی اور غذا کے ساتھ تبدیل کر لیں اور دن میں 2 سے 3 انڈے اپنی غذا میں شامل کر لیں، ایگ ڈائیٹ کی تیسری قسم پہلی قسم سے کئی درجے بہتر اور صحت مند قرار دی جاتی ہے۔

ایک ڈائیٹ چھوڑنے کے بعد وزن کا اچانک بڑھنا

ماہرین کے مطابق ایک ڈائیٹ 3 دن یا 6 دن سے زیادہ نہ دہرائیں ، یہ نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے، ایگ ڈائیٹ چھورنے کے بعد وزن اچانک بڑھ سکتا ہے جسے روکنے کے لیے ہفتے میں صرف دو بار روٹی کا استعمال کریں اور دو بار ہی چاول کھائیں، زیادہ تر دہی، انڈہ، سلاد، پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذائیں، دالیں اور مچھلی اور مرغی کا اسٹیک بنا کر کھا سکتے ہیں۔

ایگ ڈائیٹ کن افراد کے لیے سختی سے منع ہے؟

ڈائیٹیشن عائشہ ناصر کے مطابق انڈے کی زردی میں گُڈ فیٹس موجود ہوتے ہیں مگر یہ ہائی اِن کولیسٹرول ہے، اسی لیے دل کے مریض اس ڈائیٹ کا استعمال ہر گز نہ کریں، دل سے متعلق جنہیں کوئی بھی شکایت ہو وہ اس ڈائیٹ سے گریز کریں، قبض، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے مریضوں کو بھی ایگ ڈائیٹ کا استعمال بالکل منع ہے۔

مزید پڑھیں

معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا کیسے ممکن؟

تیزابیت یا ایسیڈیٹی نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو بظاہر تو ایک معمولی طبی مسئلہ لگتا ہے، مگر جس شخص کو اس کا سامنا ہوتا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اس مسئلہ کے پیش نظربے حد پریشان نظرآتی ہے۔ تیزابیت کی عام وجوہات اس کی عام وجوہات میں تناؤ، بہت زیادہ مسالے اور گوشت وغیرہ کا استعمال، تمباکو نوشی، بے وقت کھانے کی عادت، معدے کے مختلف عوارض اور مخصوص ادویات وغیرہ کا استعمال شامل ہے۔ تیزابیت میں مفید غذائیں صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے بہتر غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔ایسی غذائیں جن میں ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے انھیں کھانے کے بعد ایسیڈیٹی کی شکایت ہونے کااندیشہ رہتاہے۔عموماً وہ افراد جن کی غذائی نالی کمزور یعنی عضلاتی نالی جوحلق سے پیٹ تک جاتی ہے، اس میں مقعد کوبند کرنے والاپٹھاہوتاہے جس کے سکڑنے سے غذائی نالی کاخارجی راستہ بند ہوجاتاہے۔ اس سے ایسیڈیٹی کی شکایت ہوتی ہے اور گیسٹروکامرض لاحق ہونے کاخطرہ رہتاہے۔ اگرغذاکاصحیح انتخاب کیاجائے تو تیزابیت سے بچاجاسکتاہے۔اس کے علاوہ کچھ غذائیں ایسی ہیں جن کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت کوکم کیاجاسکتاہے۔ گیسٹرک ایسڈ سے بچنے کے لئے ان غذاؤں کاروزانہ استعمال مفید رہتاہے۔ دلیہ جی ہاں! یہ بچوں والی خوراک ہے لیکن بدہضمی میں انتہائی مفید ہے۔ اس کا شمار نرم اور زود ہضم غذاؤں میں ہوتا ہے، اسی وجہ سے ڈاکٹرز تیزابیت میں دلیہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس میں موجود فائبر اپھارہ اور واٹر ریٹنشن کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتاہے۔ یہ پیٹ میں موجود اضافی ایسڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔ کچھ اور فائبر سے لبریز غذائیں جیسے گندم اورچاول کی مصنوعات بھی فائدہ مند رہتی ہیں۔ ادرک تیزابیت میں ادرک کااستعمال بہترین ہے۔ ادرک میں اینٹی آکسیڈنٹ اوراینٹی انفلیمنٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ تیزابیت کے ساتھ یہ سینے کی جلن، بدہضمی اورپیٹ کے دیگرامراض میں بھی مفید ہے۔اگرآپ کوتیزابیت کے ساتھ ساتھ سینے میں جلن کی شکایت ہوتوادرک کاقہوہ بناکراسے کمرے کے درجہ حرارت پرآنے پر پی لیں۔ تازہ ادرک کا چھوٹا ٹکڑا اسمودھی، سیریل اور دیگر غذاؤں کے ساتھ لیاجاسکتا ہے۔ ہرے پتوں کی سبزیاں ہرے پتوں کی سبزیاں جیسے پالک ،پودینا،دھنیا،میتھی،کیلے،بندگوبھی وغیرہ کو اگراپنی روزمرہ غذاکاحصہ بنالیاجائے تو تیزابیت کی شکایت سے چھٹکارا پایا جاسکتاہے۔ تیزابیت کا مسئلہ ہوتا ہی غذا کے غلط استعمال کے سبب ہے ۔ اگرغذا کا متوازن استعمال کیا جائے تو اس مسئلے سے بچاجاسکتاہے۔ دہی جب بھی سینے میں جلن اور ایسیڈیٹی کی شکایت ہو تو ایک پیالہ ٹھنڈا دہی استعمال کریں۔ دہی کھانے کے بعد آپ خود حیران رہ جائیں گے کہ کتنی جلدی آپ کی طبیعت میں بہتری آتی ہے۔ دہی میں کیلا یا خربوزہ شامل کرکے آپ اس کی افادیت میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔ دہی کی غذائیت اس مسئلہ کوختم کرکے آپ کو توانائی بھی فراہم کرتی ہے۔ کیلا کیلے میں الکلائن موجود ہوتاہے اسی لئے یہ ایسیڈیٹی میں کارآمد رہتاہے۔کسی بھی ایسے مسئلے کی صورت میں آپ ایک سے دوکیلے کھاسکتے ہیں۔ کیلے ذائقہ میں مزیدارہوتے ہیں اسی لئے انہیں کھانامشکل نہیں ہوتا۔ اس کے استعمال سے آپ کم وقت میں طبیعت میں کافی بہتری محسوس کریں گے۔ خربوزہ خربوزہ ایک الکلائن پھل ہے۔ ایسیڈیٹی کی شکایت میں آپ اسے ٹھنڈاکرکے یااسمودھی کے طورپربھی لے سکتے ہیں۔یہ پیٹ کے لئے نہایت مفید پھل ہے۔ اس کے استعمال سے منٹوں میں آرام آتاہے۔ یہ گرمی میں ہونے والی پانی کی کمی کودورکرکے پیٹ کوصحت مند رکھتاہے۔ گُڑ گُڑ میں میگنیشیم وافرمقدار میں پایا جاتا ہے، جو نظام ہضم کو قوت بخشتا اور تیزابیت ختم کرتا ہے۔ کھانے کے بعد گُڑ کا چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوسیں۔ اس کے استعمال سے جسم کا درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے۔ تلسی کے پتے تلسی کے پتوں میں بھی معدے کی گیس ختم کرنے والی خصوصیات موجود ہیں۔ لہٰذا جب بھی پیٹ میں گیس محسوس ہو تلسی کے چند پتے دھوکر چبالیں یا دو سے تین پتوں کو ایک کپ پانی کے ساتھ اُبالیں، چند منٹ پکنے دیں اور پھر چھان کر پی لیں۔ سونف کھانے کے بعد سونف کے چند دانے کھا لینا بھی تیزابیت سے بچا جاسکتا ہے۔ اس میں موجود تیل بدہضمی اور پیٹ کو پھولنے سے بچاتا ہے۔ نظام ہضم درست رکھنے کے لیے سونف کی چائے بھی فائدہ مند ہے۔ ان غذاؤں کے علاوہ، کیلے، ٹھنڈا دودھ یا ناریل کا پانی پینا بھی فوری ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔ زیرہ کے چند دانے چبانا یا اس کا پانی پینا، سبز الائچی کے 2 دانوں کو پانی میں اُبال کر اُسے ٹھنڈا کرکے پی لینا، ایک چائے کے چمچ سیب کے سرکے کو ایک گلاس پانی میں ملاکر خالی پیٹ استعمال کرنا بھی تیزابیت میں فوری ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔ احتیاط ایک طرف جہاں مندرجہ بالا غذائیں کھانے سے تیزابیت میں معدے کو فائدہ پہنچتا ہے، وہاں ان غذاؤں کے ساتھ ساتھ اگر چند احتیاطوں پر بھی عمل کرلیا جائے تو فائدہ زیادہ اور تیز تر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آہستگی سے کھائیں اور نوالہ اچھی طرح چبائیں، سونے سے تھوڑی دیر پہلے کھانے سے گریز کریں، بلکہ آخری غذا نیند سے3گھنٹے پہلے کھائیں، بہت زیادہ مسالے دار کھانوں اور تمباکو نوشی سے گریز کریں، ساتھ ہی ذہنی تناؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں۔

مزید پڑھیں

اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں

موسم گرما پریشان کُن ہوتا ہے لیکن اس موسم کے پھل بڑے ہی مفید، منفرد اور صحت بخش ہوتے ہیں، انہی پھلوں میں ایک چھوٹا اور مزیدار پھل آڑو بھی ہے جو ہماری مجموعی صحت کو بےشمار فوائد دیتا ہے۔
آڑو کی ٹھنڈی تاثیر سے ہمارے جسم میں گرمی کی شدت کم ہوتی ہے اور ہماری آنکھوں کی بینائی بھی بہتر ہوتی ہے، آڑو آئرن، میگنیشیم، پوٹاشیم، کاپر، زنک اور مینگنیز سے بھر پور ہوتاہے۔ اس میں موٹاپے اور جسم میں سوزش یعنی انفلیمشن سے بچاؤکی خاصیت ہوتی ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ قدرت نے اپنے اس پھل میں دیگر کونسے فوائد چُھپا کر رکھے ہیں۔

آڑو کے کرشماتی فوائد:

وٹامن اے کا اچھا ذریعہ ہے:

ماہرین آنکھوں کی بینائی بہتر بنانے کے لیے صرف گاجر ہی نہیں بلکہ آڑو کھانے کا بھی مشورہ دیتے ہیں کیونکہ آڑو آنکھوں کو مخصوص غذائی اجزاء فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے، آڑو وٹامن اے سے بھرا ہوا ہوتا ہے جس سے ہماری آنکھوں کی بینائی بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔

قلب کیلئے مفید:

آڑو میں فائبر کی مقدار میں زیادہ ہے، یہ جسم میں خراب کولیسٹرول کے مواد کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ کا دل محفوظ ہے اور ایک ہی وقت میں یہ اچھے کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے۔ آپ بہترین قلبِ صحت کے لیے روزانہ 3 سے 4 آڑو کھاسکتے ہیں۔

خون بنانے میں مدد کرتا ہے:

آڑو میں قدرتی طور پر خون بنانے کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں، آڑو ہمارے جسم میں خون کی پیداوار بڑھاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہمارے جسم میں موجود آزاد ریڈیکلز سے لڑنے میں مدد کرتا ہے۔

جِلد کیلئے مفید:

وٹامن سی، اے اور فائٹونٹریٹینٹ کا مجموعہ اچھی جِلد کو یقینی بناتا ہے۔ اور آڑو میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس عُمر بڑھنے کے عمل کو بھی سست کرتے ہیں لہٰذا موسم گرما میں روزانہ کی بنیاد پر آڑو کو اپنی غذا میں شامل کریں۔

مزید پڑھیں

گوار کی پھلی کھانا کیسا ہے؟

پاکستان سمیت ایشیا بھر میں گوار کی پھلی کی کاشت زمانہ قدیم سے کی جا رہی ہے جس کی کاشت اور استعمال سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
پاکستان سمیت ایشائی ممالک خصوصاً بھارت، بنگلہ دیش میں گوار کی پھلی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے، فصلوں کی کاشت کے ماہرین کے مطابق گوار پھلی کی کاشت کے لیے زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ اس پھلی کی مارکیٹ میں بہتات نظر آ تی ہے، فائبر سے بھرپور یہ سبزی صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق پھلیاں انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہیں، پھلیاں اور ہرے رنگ کی تمام سبزیاں انسانی صحت اور معدے سے جڑی تمام شکایتوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
گوار کی پھلی کا بطور سبزی یا اس کا چاولوں میں استعمال کرنا انسانوں کے لیے صحت مند غذا ثابت ہوتا ہے، گرمیوں کے دوران جب کچھ سمجھ میں نہ آئے تو گوار کی پھلی کا آپشن بہترین ہے ۔
گوار پھلی کی سبزی انسانی خطرناک بیماریوں مثلاً شریانوں کے تنگ ہو جانے، دل کی متعدد شکایتوں اور شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین غذا قرار دی جاتی ہے۔
گوار کی پھلی کی فصل کو بطور زمین کی کھاد، زمین کی ذرخیزی بڑھانے اور جانوروں کے چارے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

گوار پھلی کا استعمال

گوار پھلی کا استعمال متعدد طریقوں سے کیا جاتا ہے۔
اسے عام روایتی طریقوں سے سبزی بنا کر یا گوشت کے ساتھ پکا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گوار کی پھلی کے استعمال سے قبل اسے ابال کر پانی نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس پھلی کی سختی اور تیکھے ذائقے میں کمی لائی جا سکے۔

مزید پڑھیں

پالک کے صحت بخش فوائد

پالک گھروں میں پکائی جانے والی ایک عام سبزی ہے جس کے بیش بہا طبی فوائد ہیں۔ اس سے بنے لذت بھرےکھانے آپ کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتےہیں۔ پالک (Spinach) سبز پتوں والی سبزی ہے، جس کی ابتدائی کاشت فارس میںہوئی۔ پالک کو سبھی صحت بخش سبزی سمجھتے ہیں اور اسے فولاد یعنی آئرن سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔
اس کی وجہ شاید 1930ء میں متعارف کرائی جانے والی ایک کارٹون سیریز ’’پوپئے دی سیلر ‘‘ تھی، جس میں ایک زائد عمر کے نحیف ملاح پوپئے کو جب بھی طاقت چاہیے ہوتی تھی تو وہ پالک کے ڈبے سے اسے حاصل کرتا ا ور بلوٹو پہلوان کو پچھاڑ دیتا تھا۔ اس زمانے میں پالک کی فروخت اور اس کے استعمال میں بےبہا اضافہ ہوا۔
کرسٹل سٹی، ٹیکساس کی پالک کاشت کرنے والی کمیونٹی نے پالک کی صنعت پر پوپئے کے مثبت اثرات کے اعتراف میں اس کردار کا مجسمہ نصب کردیا۔ چیسٹر، الینوائے میں ایک اور پوپئے کا مجسمہ ہے جبکہ اسپرنگ ڈیل اور الما، آرکنساس میںبھی مجسمے موجود ہیں۔
سُپرفوڈز میں سرفہرست شمار کیے جانے والے پالک کو تیار کرنے کے بہت سارے طریقے ہیں۔ آپ اسے پکا کر یا کچا بھی کھا سکتے ہیں۔ اس میں بہت سارے وٹامنز اور معدنیات موجود ہیں جو کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ کم کرنے اور دیگر متعدد فوائد فراہم کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ پالک کے فوائد پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

صحت بخش غذائی اجزاء سے بھرپور

ہری سبزیوں ، خاص طور پر پالک میں کسی بھی دوسری سبزی کے مقابلے میں زیادہ غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ پکی ہوئی ایک کپ پالک41کیلوری پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ اس میں وٹامن ’اے‘ اور ’کے‘ کی غیر معمولی مقدار بھی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پالک انسانی جسم کو روزانہ کی بنیاد پر درکار اجزاء کی ضرورت کچھ اس طرح پوری کرتی ہے۔
میگنیز (84فیصد)، فولیٹ (65.7فیصد)، میگنیشیم (35.1فیصد)، آئرن (35.7فیصد)، کاپر (34.4فیصد)، وٹامن بی2 (32.3فیصد)، وٹامن بی6 (25.8فیصد)، وٹامن ای (24.9فیصد)، کیلشیم (24.4فیصد)، پوٹاشیم (23.9فیصد)، وٹامن سی (23.5فیصد)، پانی (91فیصد)، پروٹین (2.9گرام)، کاربوہائڈریٹس(3.6گرام)، شوگر (0.4گرام)، فائبر (2.2گرام)، فیٹس (0.4گرام) اور کیلوریز (23)۔
٭ پالک میں ناقابل استعمال ریشہ یعنی فائبر بہت زیادہ ہوتا ہے، جو آپ کی صحت کو کئی طریقوں سے بہتر کرسکتاہے۔ اس سے اجابت (اسٹول) آرام سے ہوتی ہےاور قبض کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
٭ پالک میں کیروٹینائڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ، جسے آپ کا جسم وٹامن اے میں بدل سکتا ہے۔
٭ وٹامن سی ایک طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہے، جو جِلد کی صحت اور قوت مدافعت کو فروغ دیتا ہے۔
٭ وٹامن K1خون جمنے کے لیے ضروری ہے۔ خاص طور پر ، پالک کا ایک پتاآپ کی روزانہ کی نصف ضرورت پوری کرسکتا ہے۔
٭ فولک ایسڈ کو فولیٹ یا وٹامن بی 9کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ کمپاؤنڈ حاملہ خواتین کے لیے بہت ضروری ہے اور عام خلیوں کے افعال اورپٹھوں کی افزائش میں بھی معاون ہے ۔
٭ پالک آئرن جیسے ضروری معدنی عنصر کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ آئرن ہیموگلوبن بنانے میں مدد کرتا ہے ، جو آپ کے جسم کےٹشوز یاعضلات میں آکسیجن پہنچاتا ہے۔
٭ کیلشیم ہڈیوں کی صحت، اعصابی نظام، دل اور پٹھوں کےاہم سگنلنگ مالیکیول کے لیے ضروری ہے۔

بیماریوں کے خلاف مزاحمت

پالک میں موجود کیلشیم آپ کی ہڈیوں کو چوٹ کے خلاف لڑنے کے لئے مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر، فولک ایسڈ اور دیگر غذائی اجزاء بڑی آنت اور چھاتی کے کینسر کے خلاف لڑتے ہیں۔ پالک خون میں پروٹین کی نقصان دہ سطح کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا اور ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب سے بچا سکتا ہے۔ پالک میں موجود لیوٹین (Lutein) ایک خاص جزو ہے، جو موتیا اور نظر خراب کرنے والے عومل کے خلاف لڑنے میں مدد کرتا ہے۔ موتیا زائد العمر افراد میں بصارت سے محرومی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

جِلد کیلئے بہترین

پالک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو جِلد کے خلیوں کی معمول کی نشوونما ا ور اسے صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پالک کےفوائد میں کولاجن کی پیداوار میں اضافہ بھی شامل ہے، جو جِلد کولچکدار رکھنے میں مدد کرتا ہے اور اس پر جھریوں اور باریک لکیروں کو نمودار ہونے سے روکتاہے۔ پالک میں موجود وٹامن اے آپ کی جِلد کو سوکھےپن، چنبل اور یہاں تک کہ مہاسوں کے خلاف لڑنے میں نمی فراہم کرتا ہے۔

کینسر سے بچاؤ

پالک میں دو اجزاء MGDG اورSQDG پائے جاتے ہیں، جو کینسر کی افزائش کو کم کرسکتے ہیں۔ ایک مطالعے میں ان مرکبات نےایک خاتون میں نہ صرف ٹیومر کی رفتارسست کرنے میں مدد کی بلکہ ٹیومر کے سائز کو بھی کم کیا۔ کئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ پالک کے استعمال سےپروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔
یہ ہری سبزی کھانے سے چھاتی کے کینسر سے بچنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ مزید برآں، پالک زائد مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہے ، جو کینسر سے لڑنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

ڈپریشن میں کمی لانے والی صحت بخش غذائیں!

ڈپریشن (ذہنی دباؤ ) دنیا بھر میں ایک عام مرض بن گیا ہے۔ ایک اندازے کےمطابق پاکستان کی 34فیصد آبادی ڈپریشن جبکہ5کروڑ افراد عمومی طور پرذہنی امراض کا شکار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی و سماجی مسائل ہیں۔ ڈپریشن سے صحت کے علاوہ سونے جاگنے کےمعمولات، فیصلہ سازی، صحت مند سرگرمیاں، یہاں تک کہ فیملی کے ساتھ روا رکھےجانے والے پیار و محبت کے تقاضے بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ ڈپریشن سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ایک طریقہ صحت بخش غذاؤں کا استعمال بھی ہے۔

آسٹریلیا کی مککوری یونیورسٹی کے محققین نے یونیورسٹی کے17سے 35سال کی عمر کے 76طلبا پران کے غذائی معمولات اور عادات کے حوالے سے تحقیق کی۔ محققین نے شرکاء کو دو گروپوں میں ترتیب دیا، ایک گروپ کی غذائوں میں تبدیلی لائی گئی جبکہ دوسرے گرو پ کو باقاعدگی سے خوراک دی گئی۔ غذا میں تبدیلی لانے والے گروپ کو یہ ہدایات دی گئیں کہ و ہ اپنی غذائوں اور طریقہ کار میں بہتری لائیںیعنی کچھ صحت بخش کھاناکھانا شروع کریں جبکہ باقاعدہ یا معمول کی ڈائٹ لینے والے گروپ کو کوئی خصوصی ہدایات نہیں دی گئیں۔ کچھ منطقی کاموں کو انجام دینے کے بعد دونوں گروپوں کو افسردگی ، اضطراب اور ان کے عمومی مزاج کے لیے جانچا گیا۔
مطالعے کے مطابق، صحت بخش غذا والے گروپ کے شرکاء کو ہدایت کی گئی کہ وہ سبزیوں (ہر دن 5بار)، پھل (2سے3روزانہ)، دلیہ (3دن)، پروٹین (روکھا گوشت، چکن، انڈے، ٹوفو یعنی سویابین سے تیار کردہ پیٹھا، لوبیا (3فی دن)، بناملائی کا دودھ (3فی دن) ، مچھلی (3فی ہفتہ) ، گری دار میوے اور بیج (3کھانے کے چمچ فی دن)، زیتون کا تیل (دن میں2چمچ) اور مسالے (ہلدی اور دار چینی ایک چائے کا چمچ) کو غذا میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ریفائنڈکاربوہائیڈریٹ، شوگر، چربی والا یا پروسیسڈ گوشت اور سوفٹ ڈرنکس کو کم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔
تین ہفتوں کے بعد، درج بالا صحت بخش ڈائٹ کے حامل افراد کے گروپ میں ڈپریشن کی علامات میں ’نمایاں‘ کمی دیکھی گئی جبکہ غذا میں تبدیلی کے بغیر والے گروپ میں ڈپریشن کی سطح بلند رہی۔ اس مطالعے کی سر فہرست مصنّفہ، پی ایچ ڈی اور شعبہ نفسیات کی پروفیسر فرانسس کا کہنا تھاکہ ، ’’پروسیس شدہ کھانے کی مقدار کو کم کرنے اور پھلوں، سبزیوں اور مچھلی جیسی خوراک میں اضافے کے نتیجے میں ڈپریشن کی علامات میںکمی واقع ہوئی، جس سے اس بات کا ثبوت ملتاہے کہ نوجوان اس قسم کے نتائج سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘‘۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میلبرن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈپریشن کے عوامل پر قابو پانے کیلئے ماحول اور عادات میں تبدیلی لانا ضروری ہے اور ان عادات میں کھانے پینے کا معمول بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تحقیق کے مطابق آپ کو یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کو کن چیزوں سے اجتناب کرنا ہے اور کن چیزوں کو اپنی خوراک میں شامل کرنا ہے جن سے آپ کے ڈپریشن میں کمی یا اس سے تحفظ کے نتائج سامنے آسکیں۔
آسٹریلیا کی میلبرن یونیوسٹی کی تحقیق کے مطابق خوراک دماغی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے اور دماغی صحت خوراک پر اپنے اثرات چھوڑتی ہے۔ جب آپ صحت بخش غذائیں کھاتے ہیں تو اس سے جسم کو عمدہ قسم کی توانائی حاصل ہوتی ہے اور آپ کا جسم اور دماغ بہتر طریقے سے اپنے کام انجام دیتے ہیں۔ لازمی امر ہے کہ آپ گاڑی میں جتنا عمدہ ایندھن ڈالتے ہیں، اتنا ہی زیادہ انجن بہتر کارکردگی دکھاتاہے ۔
امریکن جنرل آف کلینکل نیوٹریشن کی ایک رپورٹ سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ دالیں، مچھلی، پھل اور سبزیوں کا زیادہ استعمال ڈپریشن کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں ناں کہ ایک صحت مند دماغ ایک صحت مند جسم میں ہی پرورش پاتاہے۔ دراصل ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں، ان غذائوں کا اثربراہ راست جسم و دماغ پر مرتب ہوتاہے۔ ہمارے دماغ کا زیادہ تر حصہ لیپڈز(lipids)یعنی چربی پر مشتمل ہوتاہے جبکہ بقیہ حصہ امائنو ایسڈ، گلوکوز، پروٹین اور دیگر اجزاء سے بنتا ہے۔ اگر ہم فیٹی ایسڈز والی غذائیں جیسے کہ گریاں، بیج اور مچھلی وغیرہ کھائیں تو یہ دماغ میں نئے خلیوں کی تشکیل اور ان کی بحالی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ غذائیں ہماری نیند پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ اگر آپ رات میں ذہنی طور پر خود کو بے آرام اور دوپہر کے کھانے کے بعد غنودگی محسوس کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا دماغ حاصل کی گئی خوراک سے خوش نہیں ہے۔
2018ء میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق فاسٹ فو ڈ کا کم اور سمندری غذائوں کا زیادہ استعمال ڈپریشن کے تناسب میں کمی لاتاہے۔ سی فوڈ میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے دماغی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح بی ایم سی میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کہتی ہے کہ وہ افراد جو سبزیوں، پھلوں، کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات، بغیرنمک کے میوہ جات، سرخ گوشت، مچھلیاں، زیتون کا تیل، انڈے اور چکن زیادہ استعمال کرتے جبکہ میٹھی، تلی ہوئی اشیا، فاسٹ فوڈز، میٹھے مشروبات، پروسیسڈ فوڈز وغیرہ کم سے کم استعمال کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن کا خدشہ 33فیصد تک کم ہوسکتاہے۔
جرمنی کی فرینکفرٹ یونیورسٹی کی تحقیق کہتی ہے کہ ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے کیمیائی اجزاء جیسے کیفین، مصنوعی خوراک اور دوائوںکے بجائے قدرتی غذائوں کا استعمال بہتر رہتاہے۔ صحت بخش غذائوں کے استعمال سے نہ صرف ڈپریشن میں کمی آتی ہے بلکہ دماغی اور جسمانی صلاحیتوں کو بھی طویل عرصے تک قائم رکھا جاسکتاہے۔

مزید پڑھیں

Herbs & Spices