Arq ul Nisa Ka Ilaj – Chand Mufeed Mashwary

عرق النساء ! جسم کی سب سے لمبی عصب کا درد
دور جدید میں شیاٹیکا (عرق النساء) کا درد عام ہو چکا ہے ۔ اس درد میں زیادہ تر خواتین مبتلاء ہوتی ہیں ، اسی لیے اسے عرق النساء کہا جانے لگا۔ اسی نام کی وجہ سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیل گئی کہ مرد اس تکلیف میں مبتلاء نہیں ہوتے ۔ ایسا نہیں ہے ، مرد بھی اس درد کا شکار ہوتے ہیں مگر خواتین کی نسبت ان کی تعداد کم ہے ۔ یہ درد پیٹرو(Pelvis)سے شروع ہونے والی ایک عصب(Nerve)شیاٹیکا (Sciatic)میں جنم لیتا ہے ۔ یہ انسانی جسم میں پائی جانے والی سب سے لمبی عصب ہے ۔ یہ ریڑھ کی ہڈی سے نکل کر پیر کی ایڑی تک جاتی ہے ۔

دردعموماً ایک ٹانگ میں ہوتا ہے اور اس کی شدت کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے ۔ تکلیف میں مبتلاء مریض مسلسل بے چینی کا شکار رہتا ہے ۔ بعض اوقات متاثرہ ٹانگ بھاری ہوجاتی ہے اور مریض کے لیے اس پر بوجھ ڈالنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ متاثرہ ٹانگ میں کمزوری محسوس ہوتی ہے ۔ اکثر ٹانگ سن ہوجاتی ہے ، بیٹھے اور کھڑے رہنے سے بھی درد کی شدت بڑھتی ہے ۔

اس درد کا خطرہ عموماً درمیانی عمر میں زیادہ ہوتا ہے
کمرکو شدید جھٹکا لگنے ، ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہل جانے ، مہروں کے درمیان خلا کم یا زیادہ ہونے ، کولہے کے پٹھوں کی سوزش، قبض، بہت زیادہ بوجھ اُٹھانے ، اعصابی تناؤ، مسلسل ایک ہی کروٹ لیٹے رہنے ، کسی حادثے کے باعث، غرض وہ تمام عوامل جو شیاٹیکا عصب پر بوجھ ڈالیں اور تناؤ کا باعث بنیں ، وجہ درد بن سکتے ہیں ۔ عمر کے ساتھ ہونے والی جسمانی توڑ پھوڑ بھی اس میں اضافے کا سبب بنتی ہے ۔ نیز اونچی ایڑی پہننے والی خواتین ، نرم گدوں پر سونے والے اور فربہ لوگ بھی اس درد کا شکار آسانی سے ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کی شیاٹیکا عصب پہ مسلسل دباؤ پڑتا رہتاہے ۔

شیاٹیکا کا مریض عموماً ٹانگ گھسیٹ کر چلتا ہے ۔ متاثرہ ٹانگ میں اکثر بل بھی پڑجاتا ہے اور نسیں اکٹر جاتی ہیں ۔ مریض کرسی پر ٹانگ لٹکا کر بیٹھا ہو اور گھٹنے کو دبایا جائے تو اُسے ناقابل برداشت درد محسوس ہوتا ہے ۔

عرق النساء کے درد میں جس قدر دوا کی ضرورت ہوتی ہے ، اتنا ہی پرہیز اور احتیاط بھی درکار ہے ۔ دوا، پرہیزاور احتیاط سے عموماً چھ ہفتوں میں مریض صحت یاب ہوجاتا ہے ۔ سب سے پہلے تو مریض کو اپنے اُٹھنے، بیٹھنے ، چلنے اور سونے کے طریقے بدلنے چاہئیں ۔ مثال کے طور پر وہ بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی پوزیشن بدلتا رہے ۔ زیادہ دیر کھڑے ہونے اور زیادہ دیر بیٹھنے سے گریز کرے ۔
عرق النساء سے چھٹکارا پانے میں غذا کا کردار بہت اہم ہے ۔ مریض ایسی غذا کھائے جو غذائیت سے بھرپور ہو اور خصوصاً اُسے قبض سے بچائے ۔ اس بیماری کے باعث شیاٹیکا عصب پر مزید دباؤ پڑتا ہے ۔ کیلشیم و وٹامن سے بھرپور غذا اعصاب اور پٹھوں کو تقویت بخشتی اور درد سے بچاتی ہے ۔ پوٹاشیم بھی پٹھوں میں لچک پیدا کرنے میں معاون بنتا ہے ۔ چنانچہ دھی ، دلیہ ، مغزیات، پھل اور تازہ سبزیاں اپنی غذا میں شامل رکھیے ۔ گاجر اور چقندر کا رس نوش کیجئے ۔ یہ شیاٹیکا سے جلد نجات دلانے میں مدد کرے گا ۔ پانی خوب پئیں ۔ اس مر ض میں غلط ورزش درد بڑھادیتی ہے ۔ لہذا احتیاط بہت ضروری ہے مگر کچھ ورزشیں تمام مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے ۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

۱۔ کمر کے بل لیٹ جائیں اور اپنی بائیں ٹانگ سینے تک موڑ کر لائیں اس طرح کہ گھٹنا آپ کے سینے کو چھولے ۔ اب 10تک گنتی گنیے ۔ پھر دوسری ٹانگ کے ساتھ یہ عمل دہرائیے ۔ یہ ورزش دونوں ٹانگوں کے ساتھ تقریباً پانچ بار دہرائیے پھر دونوں ٹانگیں اکٹھی سینے تک لے جائیں ۔

۲۔ مساج یا مالش بھی شیاٹیکا کا ایک مستند علاج ہے ۔ اگر فزیو تھراپسٹ یا کسی ماہر سے کرایا جائے تو چند دن میں درد جاتارہتا ہے ۔ زیتون کے تیل کی مالش بہتر ہے ۔ ایک مفید نسخہ یہ ہے کہ سرسوں کے تیل میں چند لہسن کے جوئے جالیجئے ۔ پھر اس تیل سے مالش کیجئے ۔ مزیدبرآں روزانہ نہارمنہ لہسن کے دو جوئے گرم دودھ کے ساتھ کھائیے ۔

وزن اُٹھانے ، مشقت والا کام کرنے اور نم آلود اور ٹھنڈی جگہوں پر بیٹھنے سے پرہیز کیجئے ۔ سب سے بڑھ کر ذہنی دباؤ اور پریشانی سے خود کو بچائیے تو آپ جلد اس درد سے نجات حاصل کرلیں گے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*