Pani Peany Ka Fayad

صحت مند زندگی کے لئے پانی پینے کی اہمیت

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پانی زندگی ہے کیونکہ یہ اس حیاتِ کارواں کا بنیادی جزو ہے۔ انسانی جسم 70فیصد پانی پر مشتمل ہے اور اس میں کمی سے صحت کے حوالے سے کئی مسائل پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ انسان کو اسی وقت ہوتا ہے جب اسے کافی دیر تک پانی میسر نہ آئے۔ پانی کی کمی کا نتیجہ تھکاوٹ اور الجھن کے ساتھ ساتھ پریشانی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت منظم کرنا
جسم کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے ہائیڈریٹ رہنا بہت ضروری ہے۔ جسمانی سرگرمی اور گرم ماحول میں پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے ۔ پسینے سے جسم ٹھنڈا رہتا ہے، لیکن اگر اس کے ذریعے ضائع ہونے والا پانی دوبارہ حاصل نہ کیا جائے تو پھرجسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پانی کی کمی واقع ہوجاتی ہے تو جسم الیکٹرولائٹس اور پلازما کھو دیتا ہے۔ اگر کسی کو معمول سے زیادہ پسینہ آرہاہو تو وہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے فوری پانی پینا یقینی بنائے۔

ٹشوز اور جوڑوں کی حفاظت

پانی کا استعمال آپ کے جوڑوں، ریڑھ کی ہڈی اور ٹشوز کو چکنا اور گداز رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے آپ کو جسمانی سرگرمی سے لطف اندوز ہونے او رآرتھرائٹس (گٹھیا) سے ہونے والی تکلیف کم کرنے میںبھی مدد ملتی ہے۔ موسم سرما میں اکثر لوگوں کے جوڑوں اور ہڈیوں میں درد بڑھ جاتا ہے،اس کی ایک وجہ جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔

فالتو مادوں کا اخراج

انسانی جسم پسینے اور پیشاب کے اخراج اور پیٹ میں ہونے والے افعال یا حرکت کیلئے پانی استعمال کرتا ہے۔ پسینے سے کھوئے ہوئے سیال کو پورا کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیشاب کے ذریعے ضائع ہونے والا فالتو مواد گردوںکی کارگردگی کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ جسم میں مطلوبہ مقدار میں پانی کی موجودگی سے گردوں کو نہ صرف زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ گردوں کو پتھری سے محفوظ رکھنے کا کام بھی کرتی ہے۔

عملِ انہضام میں مدد

ماہرین کھانے سے پہلے، دوران میں اور کھانے کے بعد پانی پینےکی تائید کرتے ہیں۔ پانی کے ذریعے غذاؤں کو زیادہ مؤثر طریقے سے ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔

پانی کے دیگر افعال و فوائد

خون میں آکسیجن کی گردش میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ پانی پورے جسم میں مددگار غذائی اجزاء اور آکسیجن لے جاتا ہے۔ ساتھ ہی انہیں جذب کرنے میں بھی مدد کرتاہے۔ پانی بیماری سے لڑنے میں مدد دیتے ہوئے قبض، گردوں کی پتھری، پیشاب کی نالی کے انفیکشن اور ہائی بلڈ پریشر سے بچاتاہے ۔
یہ کھانے سے اہم وٹامنز، معدنیات اور غذائی اجزاء جذب کرنے میں بھی مدد کرتا ہے، جس سے انسان کے صحت مند رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پانی پینے سے توانائی آجاتی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ 500ملی لیٹر پانی پینے سے مرد اور خواتین دونوں میں میٹابولک کی شرح میں 30فیصد اضافہ ہوا ۔ یہ اثرات ایک گھنٹہ تک جاری رہے۔

روزانہ کتنا پانی پینا چاہیے؟

روزانہ کی بنیاد پر جسم کو اپنے افعال درست انداز میں انجام دینے کے لیے پانی کی ایک خاص مقدار درکار ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ صرف پیاس لگنے کی صورت میں ہی پانی پیتے ہیں، مگر پیاس بھی اسی صورت محسوس ہوتی ہے جب جسم میں پانی کی کمی ہورہی ہو۔ سائنس، انجینئرنگ اور میڈیسن کی تحقیق کے مطابق، پانی کی مقدار (تمام مشروبات اور کھانے پینے سے) جو زیادہ تر لوگوں کی دن بھر کی ضروریات پورا کرتی ہیں وہ ہے آٹھ سے دس گلاس۔ ورزش کرنے والوں یا گرم علاقوں میں رہنے والوں کو جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کیلئے اس کی مقدار میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔
جسم کو درکار پانی (ہائیڈریشن) کا اندازہ پیاس لگنے اور پیشاب کے رنگ سے کیا جاسکتا ہے۔ پیاس لگنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کے جسم کو پانی کی مناسب مقدار نہیں مل رہی جبکہ گہرے پیلے رنگ کا پیشاب آنا پانی کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہلکا یا غیرپیلا پیشاب عام طور پر مناسب ہائیڈریشن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
پیاس لگے یا نہ لگے انسان کو روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی پینے کا معمول بنالینا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ دن کے اوقات میں زیادہ پانی پئیں اور رات میں صرف ضرورت کے تحت ہی پانی پیا جائے کیونکہ رات کو زیادہ پانی پینے سے رات کو بھی گردے کام کرتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے توجہ، مستعدی اور قلیل مدتی یادداشت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ پانی کی کمی سے بے چینی بڑھ جاتی ہے اور اس کی طلب میں انسان جاں بلب ہونے لگتا ہے۔ شدید پیاس کی حالت میں ایک گلاس پانی مل جانا جسم کے ساتھ روح کو بھی تر کردیتا ہے۔
انسانی صحت کے لیے پانی نہایت ضروری ہے۔ اس کے بہت سے اہم افعال ہیں جیسے کہ جسم سے فضلہ نکالنا، جسم کے درجہ حرارت کو منظم رکھنا اور دماغی افعال میں مدد کرنا وغیرہ۔ ہم روزمرہ درکار پانی کا 20فیصد غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں جبکہ باقی مقدار پینے کے پانی اور دیگر مشروبات سے حاصل کی جاتی ہے۔ پانی کی ضرورت اور افعال سے لاعلم لوگوں کو جب اس کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے تو وہ اس نعمت کی قدر کرنے لگتے ہیں

جسم کا درجہ حرارت منظم کرنا

جسم کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے ہائیڈریٹ رہنا بہت ضروری ہے۔ جسمانی سرگرمی اور گرم ماحول میں پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے ۔ پسینے سے جسم ٹھنڈا رہتا ہے، لیکن اگر اس کے ذریعے ضائع ہونے والا پانی دوبارہ حاصل نہ کیا جائے تو پھرجسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پانی کی کمی واقع ہوجاتی ہے تو جسم الیکٹرولائٹس اور پلازما کھو دیتا ہے۔ اگر کسی کو معمول سے زیادہ پسینہ آرہاہو تو وہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے فوری پانی پینا یقینی بنائے۔

ٹشوز اور جوڑوں کی حفاظت

پانی کا استعمال آپ کے جوڑوں، ریڑھ کی ہڈی اور ٹشوز کو چکنا اور گداز رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے آپ کو جسمانی سرگرمی سے لطف اندوز ہونے او رآرتھرائٹس (گٹھیا) سے ہونے والی تکلیف کم کرنے میںبھی مدد ملتی ہے۔ موسم سرما میں اکثر لوگوں کے جوڑوں اور ہڈیوں میں درد بڑھ جاتا ہے،اس کی ایک وجہ جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔

فالتو مادوں کا اخراج

انسانی جسم پسینے اور پیشاب کے اخراج اور پیٹ میں ہونے والے افعال یا حرکت کیلئے پانی استعمال کرتا ہے۔ پسینے سے کھوئے ہوئے سیال کو پورا کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیشاب کے ذریعے ضائع ہونے والا فالتو مواد گردوںکی کارگردگی کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ جسم میں مطلوبہ مقدار میں پانی کی موجودگی سے گردوں کو نہ صرف زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ گردوں کو پتھری سے محفوظ رکھنے کا کام بھی کرتی ہے۔

عملِ انہضام میں مدد

ماہرین کھانے سے پہلے، دوران میں اور کھانے کے بعد پانی پینےکی تائید کرتے ہیں۔ پانی کے ذریعے غذاؤں کو زیادہ مؤثر طریقے سے ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔

پانی کے دیگر افعال و فوائد

خون میں آکسیجن کی گردش میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ پانی پورے جسم میں مددگار غذائی اجزاء اور آکسیجن لے جاتا ہے۔ ساتھ ہی انہیں جذب کرنے میں بھی مدد کرتاہے۔ پانی بیماری سے لڑنے میں مدد دیتے ہوئے قبض، گردوں کی پتھری، پیشاب کی نالی کے انفیکشن اور ہائی بلڈ پریشر سے بچاتاہے ۔
یہ کھانے سے اہم وٹامنز، معدنیات اور غذائی اجزاء جذب کرنے میں بھی مدد کرتا ہے، جس سے انسان کے صحت مند رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پانی پینے سے توانائی آجاتی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ 500ملی لیٹر پانی پینے سے مرد اور خواتین دونوں میں میٹابولک کی شرح میں 30فیصد اضافہ ہوا ۔ یہ اثرات ایک گھنٹہ تک جاری رہے۔

روزانہ کتنا پانی پینا چاہیے؟

روزانہ کی بنیاد پر جسم کو اپنے افعال درست انداز میں انجام دینے کے لیے پانی کی ایک خاص مقدار درکار ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ صرف پیاس لگنے کی صورت میں ہی پانی پیتے ہیں، مگر پیاس بھی اسی صورت محسوس ہوتی ہے جب جسم میں پانی کی کمی ہورہی ہو۔ سائنس، انجینئرنگ اور میڈیسن کی تحقیق کے مطابق، پانی کی مقدار (تمام مشروبات اور کھانے پینے سے) جو زیادہ تر لوگوں کی دن بھر کی ضروریات پورا کرتی ہیں وہ ہے آٹھ سے دس گلاس۔ ورزش کرنے والوں یا گرم علاقوں میں رہنے والوں کو جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کیلئے اس کی مقدار میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔
جسم کو درکار پانی (ہائیڈریشن) کا اندازہ پیاس لگنے اور پیشاب کے رنگ سے کیا جاسکتا ہے۔ پیاس لگنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کے جسم کو پانی کی مناسب مقدار نہیں مل رہی جبکہ گہرے پیلے رنگ کا پیشاب آنا پانی کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہلکا یا غیرپیلا پیشاب عام طور پر مناسب ہائیڈریشن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
پیاس لگے یا نہ لگے انسان کو روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی پینے کا معمول بنالینا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ دن کے اوقات میں زیادہ پانی پئیں اور رات میں صرف ضرورت کے تحت ہی پانی پیا جائے کیونکہ رات کو زیادہ پانی پینے سے رات کو بھی گردے کام کرتے رہتے ہیں۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *