بہت زیادہ میٹھا کھانے کی عادت کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

اکثر افراد کاکھانا اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کچھ میٹھا نہ کھالیں اور ماہرین غذائیت چینی کو لت قرار دیتے ہیں۔
اس کو ذیابیطس سمیت متعدد امراض کا خطرہ بڑھانے کا سبب بھی سمجھا جاتا ہے اور اب اس کا ایک اور نقصان سامنے آگیا ہے۔
درحقیقت چینی یا ایڈڈ شوگر کا بہت زیادہ استعمال جسمانی مدافعتی نظام کو کمزور بنانے کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ویلز کی سوانسی یونیورسٹی، برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی اور فرانسس کریک انسٹیٹوٹ کی اس مشترکہ تحقیق میں پہلی بار شوگر فریکٹوز کے جسمانی مدافعتی نظام پر روشنی ڈالی گئی۔
فریکٹوز میٹھے مشروبات، مٹھائیوں اور دیگر میں عام استعمال ہونے والا جز ہے، جس کو موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ ٹو اور جگر پر چربی چڑھنے جیسے امراض سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت زیادہ منہ میٹھا کرنے کا شوق مدافعتی نظام کے افعال کو متاثر کرتا ہے اور ایسے مالیکیولز کو زیادہ متحرک کرتا ہے جو ورم کا باعث سمجھ جاتے ہیں۔
اس طرح کی ورم سے خلیات اور ٹشز کو نقصان پہنچتا ہے جس کا نتیجہ مختلف امراض کی شکل میں نکلتا ہے۔
طبی جریدے جرنل نیچر کمیونیکشنز میں شائع تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ فریکٹوز کس طرح ذیابیطس اور موٹاپے کا باعث بنتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اس سے جس میں ایسا ورم ہوتا ہے جس کو اکثر موٹاپے سے منسلک کیا جاتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ ہماری غذا کے مختلف حصوں پر تحقیق سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ وہ کس طرح ورم اور امراض میں کردار ادا کرتی ہیں اور صحت کو بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نتائج سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ آخر کچھ غذائیں کیوں صحت کو خراب کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
اس سے قبل 2019 میں ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بہت زیادہ میٹھا کھانے کی عادت دماغی صحت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق خون میں گلوکوز کی اضافی مقدار ان اہم خامروں کو نقصان پہنچاتا ہے جو کہ الزائمر کی ابتدائی علامات کی روک تھام کا کام کرتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ بلڈ شوگر کی بہت زیادہ مقدار جسے ذیابیطس اور موٹاپے کا باعث بھی سمجھا جاتا ہے، دماغ کے لیے امزائمر امراض کا باعث بھی بنتی ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو میٹھی چیزیں بہت زیادہ کھاتے ہیں مگر ذیابیطس کے شکار نہیں، ان میں بھی الزائمر کا امراض کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *