ٹھنڈی چیزیں کھانے یا پینے سے دانتوں میں درد کیوں ہوتا ہے؟

کچھ لوگ دانتوں کی حفاظت کے لیے عام طور پر ٹھنڈی، گرم یا میٹھی چیزیں کھانے یا پینے سے گریز کرتے ہیں، کیوں کہ ایسے لوگوں کو مذکورہ چیزیں کھانے یا پینے سے دانتوں میں درد بھی ہوتا ہے۔
ایسے ہی کچھ لوگ گرم چیزیں کھانے یا پینے سے بھی گریز کرتے ہیں، تاکہ وہ دانتوں کے درد سے محفوظ رہ سکیں۔
تاہم ایسے لوگوں سمیت اکثریت کو یہ علم نہیں ہوتا کہ آخر ٹھنڈی چیزیں کھانے یا پینے کے دوران دانتوں میں درد کیوں ہوتا ہے اور پھر اس درد کا احساس دماغ تک کیسے پہنچتا ہے؟

دانتوں کی تکلیف سے نجات دلانے والے 10عام طریقے

سائنسدانوں نے حال ہی میں اس مسئلے کا حل طویل تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد کیا، جس سے معلوم ہوا کہ دراصل دانتوں میں موجود خلیے ’اوڈونٹو بلاسٹ‘ (Odontoblast) متاثر ہونے کی وجہ سے ٹھنڈی چیزیں کھانے یا پینے سے دانتوں میں درد ہوتا ہے۔
سائنسی جریدے ’امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس‘ (آس) کے سائنس ایڈوانسز میں شائع متعدد یورپی و امریکی ممالک کے ماہرین کی تحقیقات کے لیے گئے جائزے کی رپورٹ کے مطابق دانتوں کے اوپر اور باہر موجود ’اوڈونٹو بلاسٹ‘ (Odontoblast) نامی خلیے ٹھنڈی چیزیں کھانے اور پینے کے دوران درد کی کیفیت کا احساس دلاتا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ آخر ’اوڈونٹو بلاسٹ‘ (Odontoblast) کو ٹھنڈی چیزوں کے کھانے اور پینے کے درمیان درد کی کیفیت کا احساس دلاتا ہے؟
اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ دراصل جب دانتوں میں انفلیمیشن یعنی سوجن، جلن یا خارش ہوتی ہے تو ’اوڈونٹو بلاسٹ‘ (Odontoblast) نامی خلیہ ٹھنڈی چیزوں کے آنے پر درد کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

دانت کے درد سے ایک منٹ میں نجات چاہتے ہیں؟

پھر یہی خلیے دانتوں کو دماغ سے جوڑنے والے سسٹم ’ٹرانزنٹ رسیپٹر پروٹین (ٹی آر پی سی) 5 کوٹھنڈی چیزوں کے کھانے یا پینے کے دوران اٹھنے والے درد کی رپورٹ دیتے ہیں جو آخر انسانی دماغ تک پہنچتی ہے اور پھر انسان کو درد محسوس ہونے لگتا ہے۔
مذکورہ تحقیق کو 4 مختلف ماہرین نے مرتب کیا، تاہم انہوں نے امریکا اور یورپ کے متعدد ممالک کے ماہرین کی جانب سے کیے جانے والے سرویز اور تحقیقاتی رپورٹس کا جائزہ لیا۔
ماہرین نے انسانوں اور چوہوں پر کی جانے والی تحقیقات کو دیکھ کر نتیجہ اخذ کیا کہ آخر دانتوں میں ٹھنڈی چیزیں کھانے یا پینے سے درد کیوں ہوتا ہے؟ ماہرین کے مطابق نتائج سے دانتوں کے علاج کے لیے کئی نئے اشارے ملتے ہیں اور نتائج دانتوں کی بیماریوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *